1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیری لیڈر سید صلاح الدین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

امریکی وزارت خارجہ نے اہم کشمیری رہنما سید صلاح الدین پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ پابندیاں ایسے وقت میں نافذ کی گئی ہیں جب امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات ہوئی ہے۔

امریکا کی جانب سے پابندیوں کے اطلاق سے کشمیری رہنما سید صلاح الدین عرف محمد یوسف شاہ کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اِس امریکی پابندی کا بھارت کی جانب سے فوری طور پر خیرمقدم بھی سامنے آیا ہے۔ یہ اہم ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے اس پابندی کا اعلان ایسے وقت میں کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کی شام ملاقات کے علاوہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

حزب المجاہدین کا عسکری دھڑا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے اور صلاح الدین اس تنظیم کے سینیئر لیڈروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق سن 2016 میں صلاح الدین نے تنازعہٴ کشمیر کی پرامن کوششوں کا راستہ روکنے کا اعلان کیا تھا۔ صلاح الدین کی قیادت میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں کئی حملوں کی ذمہ داری حزب المجاہدین قبول کر چکی ہے۔

USA Trump und Modi im Weißen Haus (Reuters/K. Lamarque)

پابندی کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی نے پیر چھبیس جون کو ملاقات کی ہے

ایک امریکی تھنک ٹینک ولسن سينٹر ميں جنوبی ايشيائی امور کے ايک ماہر مائيکل کوگل مين کے مطابق صلاح الدين کے خلاف پابنديوں کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شدت پسندی کے انسداد کے ليے واشنگٹن اور نئی دہلی انتظاميہ مل کر کام کر رہے ہيں۔ کچھ اور ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی يہ واضح نہيں کہ آيا اس کے نتيجے ميں پاکستان کے خلاف زيادہ سخت موقف اختيار کيا جائے گا۔ بھارت پاکستان پر ’دہشت گردوں کو پناہ گاہيں فراہم‘ کرنے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ پاکستان ايسے الزامات کی سختی سے تردیدکرتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ ایسی پابندیاں اُن افراد کے خلاف عائد کرتی ہے جن کے حوالے سے ایسے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اِس شخص کے کسی بھی پرتشدد اقدام سے  امریکا کی سرزمین اور امریکی شہریوں کے جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی وزارت خارجہ کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ پابندیوں کے زمرے میں لائے جانے والے فرد کا کوئی بھی فعل واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔