1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیری رہنماؤں نے بھارتی تجاویز رد کر دیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ کئی مہینوں سے نئی دہلی کی حکمرانی کے خلاف عوامی مظاہروں کا اہتمام کرنے والے سخت گیر سوچ کے حامل علیٰحدگی پسند رہنماؤں نے بھارتی حکومت کی نئے سرے سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

default

نئی دہلی نے کشمیر میں بھارتی دستوں کی تعداد میں ممکنہ کمی کا اشارہ بھی دیا

کشمیری علٰیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے مذاکرات کی نئی پیشکش رد کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومتی نمائندوں کے ساتھ مل کر ریاست جموں کشمیر میں سلامتی کی موجودہ صورت حال کا تفصیلی جائزہ لینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیری رہنماؤں کو یہ پیشکش وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کی تھی، جو گزشتہ ہفتے قریب چالیس ارکان پر مشتمل ایک کل جماعتی وفد لے کر اس مسلم اکثریتی علاقے کے دورے پر آئے تھے۔ نئی دہلی حکومت وادی کشمیر کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال پراس لئے بڑی تشویش میں مبتلا ہے کہ جون کے مہینے سے اب تک کشمیر میں مسلسل آزادی کے حق میں خونریز مظاہرے ہو رہے ہیں۔

Indien Kaschmir Massenproteste in Srinagar Polizei

زیادہ تر ہلاکتیں پولیس کی فائرنگ کے باعث ہوئیں

اس کے علاوہ وادی کے بہت سے شہروں اور علاقوں میں مسلسل کرفیو ہے اور جون کے وسط سے اب تک وہاں 107کے قریب کشمیری ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ ان ہلاک شدگان میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، جو پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔

ان حالات میں وزیر داخلہ چدمبرم کی طرف سے کی گئی بھارتی پیشکش کے جواب میں علیٰحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے ریاست کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں آج اتوارکو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کی یہ پیشکش محض کچھ وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ سید علی شاہ گیلانی کے مطابق اس بھارتی مذاکراتی دعوت کا مقصد بین الاقوامی برداری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔

Kaschmir Kashmir Indien Polizei Protest Demonstration Muslime Steine

جون کے وسط سے اب تک وہاں 107کے قریب کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں

اس موقع پر سید علی شاہ گیلانی نے یہ بھی کہا کہ اگر نئی دہلی میں بھارتی حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ چند زیر حراست طلبا کو رہا کر کے اور شہیدوں کے خاندانوں کو کچھ ریلیف دے کر وہ کشمیری عوام میں الگ تھلگ ہو کر رہ جانے کے احساس کو ختم کر سکیں گے، تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ گزشتہ ہفتے کشمیر کے لئے جو آٹھ نکاتی منصوبہ لے کرسری نگر آئے تھے، وہ بدامنی اور مسلسل خونریزی کی شکار وادی کشمیر میں خراب تر ہوتے ہوئے حالات میں بہتری کے لئے نئی دہلی کی پہلی بڑی کوشش تھی۔

اس دوران پی چدمبرم نے یہ بھی کہا تھا کہ ثالثی کی کوششیں کرنے والی اہم شخصیات پر مشتمل ایک ایسے گروپ کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی، جو کشمیری مظاہرین کو پر امن بنانے کی کوششیں کرے گا۔

اس کے علاوہ چدمبرم نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ جموں و کشمیر میں ریاستی حکومت کو اُن 255 مظاہرین کو رہا کرنے کا حکم بھی دے دیا جائے گا، جو عوامی احتجاج کی موجودہ لہر کے دوران سکیورٹی دستوں پر پتھراؤ کے جرم میں اب تک گرفتار کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ نئی دہلی نے کشمیر میں بھارتی سکیورٹی دستوں کی بڑی تعداد میں موجودگی میں کمی کا ذکر بھی کیا تھا۔

بھارتی حکومت کی ان تجاویز کو ایک طرف اگر سید علی شاہ گیلانی جیسے سخت گیر کشمیری رہنماؤں نے رد کر دیا ہے تو دوسری طرف اعتدال پسند علیٰحدگی پسند رہنماؤں نے یہ کہا ہے کہ وہ نئی دہلی حکومت کی پیشکش پر اپنے رد عمل سے متعلق ابھی آپس میں مشورے کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس