1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی، سیپ بلاٹر

فیفا کے سربراہ سیپ بلاٹر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جاری جنگ میں کسی کو بھی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ فٹ بال کا نگران عالمی ادارہ فیفا گزشتہ بارہ ماہ سے مختلف اسکینڈلز کا شکار ہے۔

default

فیفا کے سربراہ سیپ بلاٹر

برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیپ بلاٹر نے کہا، ’جون میں منعقد ہوئی فیفا کانگریس کے دوران جو اہم بات متفقہ طور پر سامنے آئی ہے، وہ ہے اعتماد اور سچ۔‘ بلاٹر اس وقت ریو میں ہیں، جہاں ہفتے کے دن ایک خصوصی تقریب میں سن 2014 کے عالمی کپ فٹ بال کے ڈراز نکالے جائیں گے۔

بلاٹر نے کہا کہ فیفا اور فٹ بال میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے برداشت کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ امتیازی سلوک اور ڈوپنگ جیسے مسائل کے حل کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ ان کے بقول، ’یہ کام شروع ہو چکا ہے۔ اب ہمیں غیر قانونی سٹے بازی کے خلاف بھی کام شروع کرنا ہے‘۔

فیفا کے سربراہ نے کہا کہ 2014ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنلز میں ’گول لائن ٹیکنالوجی‘ استعمال کی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس سے قبل یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ یہ ٹیکنالوجی کس حد تک قابل اعتماد ہے۔

FIFA Weltmeisterschaft 2014 Präsentation der brasilianischen Deligation Ricardo Terra Teixeira Brasilien Fußball WM Zürich Schweiz

2014ء کا فٹ بال ورلڈ کپ برازیل میں منعقد کیا جا رہا ہے

انہوں نے کہا کہ آئندہ برس مارچ میں وہ اس حوالے سے فیصلہ کر لیں گے، ’اگر گول لائن ٹیکنالوجی قابل بھروسہ ہے اور ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں، تو اس کے امکانات ہیں کہ فیفا اس کو 2014ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے اپنا لے‘۔

کرکٹ اور ٹینس کی طرح فٹ بال میں بھی زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے کے لیے زور اس وقت دیا جانے لگا تھا، جب گزشتہ عالمی کپ مقابلوں میں جرمنی اور انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ایک اہم میچ میں انگلینڈ نے گول کر دیا تھا تاہم ریفری نے یہ گول نہیں دیا تھا کیونکہ اسے معلوم نہ ہو سکا تھا کہ آیا فٹ بال نے گول پوسٹ کی لائن کو کراس کیا تھا یا نہیں۔ تاہم ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فوٹیج کے مطابق بال گول پوسٹ کی لائن عبور کرنے کے بعد واپس باہر آئی تھی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس