1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کسی مسافر نے کھڑے ہو کر سفر نہیں کیا، پی آئی اے

پاکستان کی قومی ایئر لائن نے اُن الزامات کی تردید کی ہے جن کے مطابق اُس کی کراچی سے سعودی عرب جانے والی ايک پرواز میں سات اضافی مسافروں کو کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑا۔ پی آئی اے نے الزامات کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

Pakistan Fluggesellschaft PIA Premier (PIA)

 پی آئی اے کے مطابق کراچی سے مدینہ جانے والی پرواز میں چند مسافروں کے کھڑے ہو کر سفر کرنے کی بابت میڈیا رپورٹیں بے بنیاد ہیں

پی آئی اے کی جانب سے اِس مبینہ واقعے کی تحقیقات کا حکم  پاکستان کے ايک انگریزی روزنامے ڈان میں ایک رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد دیا گیا ہے۔ ڈان نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ بیس جنوری کو کراچی سے مدینہ جانے والی پرواز میں مبینہ طور پر 416 مسافروں کو بٹھایا گیا جبکہ طیارے کی گنجائش بشمول جمپ نشستوں کے 409 افراد کی تھی۔

 اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی ایئر لائن نے فضائی سلامتی کے لیے وضع کردہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ انگریزی اخبار ڈان نے ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ نشستوں کے بغیر مسافر ہنگامی صورتِ حال کی صورت میں آکسیجن ماسک تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے نہ ہی جہاز سے ہنگامی انخلاء ممکن تھا۔

Pakistan International Airlines Flugzeugabsturz Absturzstelle (picture-alliance/dpa/Stringer)

گزشتہ برس سات دسمبر کو چترال سے اسلام آباد جانے والا ایک اے ٹی آر طرز کا جہاز حویلیاں کے پاس گر کر تباہ ہو گیا تھا

 پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ کراچی سے مدینہ جانے والی پرواز میں چند مسافروں کے کھڑے ہو کر سفر کرنے کی بابت میڈیا رپورٹیں بے بنیاد ہیں۔ گیلانی کے مطابق کسی پرواز میں اس کی مدت سے قطع نظر کھڑے ہو کر سفر کرنا ناممکن ہے۔ دانیال گیلانی نے تاہم یہ بھی کہا، ’’ طیارے میں اضافی مسافروں کو سوار کرنے کا معاملہ زیرِ تفتیش ہے۔ ایئر لائن نے معاملے کی مکمل چھان بین کا حکم دے دیا ہے۔‘‘

گزشتہ برس سات دسمبر کو چترال سے اسلام آباد جانے والا ایک اے ٹی آر طرز کا جہاز حویلیاں کے پاس گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس واقعے میں سینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد  ایک پرواز سے پہلے ایئر لائن کے اسٹاف کی جانب سے رن وے پر ایک بکرے کی قربانی کی تصاویر کے باعث پی آئی اے کو کافی ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔

DW.COM