1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کسی افغان شہری کو جرمنی بدر نہ کیا جائے، ایس پی ڈی

جرمن پارلیمان میں دوسری بڑی سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے وفاقی کنونشن کے دوران فیصلہ کیا کہ افغانستان کی سکیورٹی صورت حال بہتر ہونے تک جرمنی سے افغان مہاجرین کی ملک بدری مکمل طور پر روک دی جانا چاہیے۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اس وقت وفاقی حکومت میں چانسلر میرکل کی اتحادی جماعت ہے تاہم آئندہ عام انتخابات کے دوران چانسلر میرکل اور اسی سیاسی جماعت کے مارٹن شُلس کے مابین جرمن چانسلر کے عہدے کے لیے مقابلہ ہو گا۔

جرمنی میں نئی زندگی (2): کسے پناہ ملے گی اور کسے جانا ہو گا؟

’مہاجرین چلا چلا کر کہتے رہے کہ آکسیجن ختم ہو رہی ہے‘

ایس پی ڈی نے اتوار پچیس جون کے روز ڈورٹمنڈ میں منعقد ہونے والے پارٹی کے وفاقی کنونشن کے دوران افغان مہاجرین کی جرمنی بدری کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل اس دوسری بڑی سیاسی جماعت نے افغان مہاجرین کی ملک بدری اس وقت تک روک دینے کا مطالبہ کیا ہے، جب تک افغانستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی۔

ملکی عام انتخابات کے لیے تیار کیے جانے والے پارٹی منشور میں اس کنونشن میں شریک مندوبین کی اکثریت نے اس حوالے سے یہ تحریر منظور کی: ’’افغانستان کی سکیورٹی صورت حال کے باعث وہاں زندگیاں محفوظ نہیں ہیں، اس لیے اگلے اعلان تک کسی کو ملک بدر کر کے افغانستان نہیں بھیجا جائے گا۔‘‘

پارٹی کنونشن کے دوران کمشن نے تجویز دی تھی کہ منشور میں ایک عمومی جملہ شامل کیا جائے کہ تارکین وطن کو ملک بدر کر کے کسی جنگ زدہ علاقے میں نہیں بھیجا جائے گا اور خاص طور پر صرف افغان مہاجرین کی ملک بدری کا ذکر نہ کیا جائے۔ تاہم یہ تجویز منظور نہیں کی گئی اور منشور میں خاص طور پر افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری روکے جانے کے حوالے سے تحریر شامل کی گئی۔

کس یورپی ملک میں زیادہ پاکستانی مہاجرین کو پناہ ملی؟

پارٹی کنونشن کے بعد ایس پی ڈی کی جانب سے چانسلر کے عہدے کے امیدوار مارٹن شُلس نے عوامی نشریاتی ادارے اے آر ڈی سے کی گئی اپنی ایک گفت گو میں کہا کہ پارٹی کے اس فیصلے سے ’جرائم میں ملوث تارکین وطن‘ کی ملک بدری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ شُلس کا کہنا تھا کہ جرمنی میں دہشت گردی کے منصوبے بنانے والے اور عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے غیر ملکیوں کو کسی صورت جرمنی میں پناہ نہیں دی جا سکتی اور انہیں ’جلد از جلد ملک بدر‘ کر دیا جانا چاہیے۔

گزشتہ ماہ کابل دہشت گردانہ حملے کے ایک بڑے واقعے کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے افغان مہاجرین کی ملک بدری عارضی طور پر روک دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ایس پی ڈی نے افغانستان کی سکیورٹی صورت حال بہتر ہونے تک ملک بدریاں روک دینے کا اعلان کیا ہے۔ چانسلر میرکل نے جرائم پیشہ اور دہشت گردی میں ملوث افراد کے علاوہ ایسے افغان تارکین وطن کی ملک بدری جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا تھا جو جرمن حکام کے ساتھ اپنی حقیقی شناخت کے بارے میں تعاون نہیں کر رہے۔

افغان تارکین وطن کی ملک بدری جرمنی میں کافی متنازعہ معاملہ ہے۔ انسانی حقوق اور مہاجرین کی مدد میں سرگرم سماجی تنظیمیں افغانستان کو غیر محفوظ قرار دیتی ہیں اور ملک بدری کی مخالفت کر رہی ہیں۔

جرائم پيشہ تارکین وطن واپس نہيں ليں گے، پاکستانی ايف آئی اے

اس سال اب تک مزید کتنے پاکستانی جرمنی پہنچے؟

DW.COM