1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرے کوئی، بھگتے کوئی

بارسلونا ميں ہونے والے دہشت گردانہ حملے سے قبل اسپين ميں مسلمان مخالف جذبات نہ ہونے کے برابر تھے تاہم اب صورت حال بدل چکی ہے۔ حملے کے بعد اسپين ميں مسلمان مخالف حملوں ميں ڈرامائی اضافہ نوٹ کيا گيا ہے۔

ہسپانوی خطے کاتالونيا کے شہر بارسلونا ميں سترہ اگست کے روز ايک حملہ آور نے شہر کی ايک معروف شاہراہ لاس رملاس پر اپنی گاڑی سے متعدد افراد کو روند ديا تھا۔ اس حملے ميں پندرہ افراد ہلاک اور ايک سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ جس دن يہ حملہ ہوا، اسی روز سترہ سالہ فاطمہ الحمر اپنی بہن حفظہ الحمر کے ہمراہ ہسپانوی شہر غرناطہ ميں خريداری کر رہی تھیں۔ سامان خريدنے کے بعد يہ دونوں بہنيں ايک بس اسٹيشن پر کھڑی تھيں کہ انہوں نے ساتھ کھڑی چند مقامی خواتين کی گفتگو سنی، جو ان ہی کے بارے ميں تھی۔ فاطمہ الحمر کے بقول ايک ہسپانوی خاتون نے اپنی ساتھی سے مخاطب ہو کر کہا، ’’يہ شرم کی بات ہے کہ يہ يہاں شاپنگ کر رہی ہيں اور ان ہی کے جيسے لوگوں کی وجہ سے بارسلونا ميں ہلاکتيں واقع ہوئی ہيں۔‘‘

فاطمہ الحمر اور حفظہ الحمر مراکش سے کم عمری ميں ہی اپنے والدين کے ساتھ اسپين منتقل ہو گئی تھيں۔ فاطمہ بتاتی ہیں کہ اگرچہ وہ حجاب پہنتی ہیں ، مگر اسپين ميں انہیں کبھی ايسا محسوس نہيں ہوا کہ لوگ انہیں خود سے مختلف سمجھتے ہيں۔ ديگر يورپی ممالک ميں دہشت گردانہ حملے ہوتے رہے مگر ان کے نتيجے ميں اسپين ميں کبھی مسلمانوں کو امتيازی رويے کا سامنا نہيں رہا۔ فاطمہ کے بقول اس کے جاننے والے تو اکثر يہ کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں کا ايسے حملے کرنے والوں سے کوئی تعلق نہيں۔ البتہ سترہ اگست کو اسپين ميں رونما ہونے والے واقعات نے اس صورت حال کو تبديل کر ڈالا۔ فاطمہ بتاتی ہیں، ’’اپنی زندگی ميں پہلی مرتبہ اب جب ميں باہر نکلتی ہوں، تو کچھ عجيب سا محسوس کرتی ہوں۔ حجاب کی وجہ سے لوگ مجھے شک کی نگاہ سے ديکھتے ہيں۔ ايک دن ايک شخص نے يہ جملہ کسا کہ ميں حجاب کے اندر جو چھپا رہی ہوں، اسے سامنے لاؤں۔‘‘

فاطمہ اسپين ميں رہائش پذير وہ واحد مسلمان نہيں، جنہیں ایسے حالات کا سامنا ہے۔ حاليہ حملوں کے بعد ملک بھر ميں مسلمانوں سے نفرت يا خوف ميں اضافہ نوٹ کيا گیا ہے۔ غرناطہ، ميڈرڈ، سيوول اور ٹاراگونا ميں مساجد کے باہر بعض لوگوں نے متنازعہ پيغامات لکھے جیسے، ’’تم سب مارے جاؤ گے۔ قاتلو تمہيں اس کی قيمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘

يہ امر اہم ہے کہ بارسلونا ميں ہونے والے حاليہ حملوں کے بعد ہزاروں مسلمانوں نے اسپين کے کئی شہروں ميں ريلياں نکاليں، جن ميں مسلم شہريوں نے اسلام کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے ان سے لاتعلقی کا اظہار بھی کيا۔ تاہم شايد يہ پيغام ہر کسی تک نہيں پہنچ رہا۔ ہسپانوی ’فيڈريشن آف اسلامک رليجس اينٹيٹز‘ کے منير بنجولم کا کہنا ہے کہ حاليہ واقعات کے بعد سوشل ميڈيا پر اسلام مخالف مواد کی بھرمار ديکھی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول يہ حقيقت ہے کہ بارسلونا ميں رونما ہونے والے واقعات کے بعد ہسپانوی شہری خوف زدہ ہيں ليکن دائيں بازو کی قوتوں نے بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام مخالف جذبات کو ہوا دی ہے۔

ايک حاليہ رپورٹ کے مطابق اسپين ميں سن 2014 ميں ’اسلامو فوبیا‘ يا اسلام کے خوف کے زمرے ميں آنے والے انچاس واقعات رپورٹ کيے گئے تھے جبکہ پچھلے سال يہ تعداد 567 تھی۔

DW.COM