1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کریک ڈاؤن کا خوف، شامی شہری ترکی میں پناہ پر مجبور

شامی حکومت کے ممکنہ کریک ڈاؤن کے خوف سے ہزاروں باشندے ترکی کا رخ کر رہے ہیں۔ ترک وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ پناہ کے متلاشی شامی باشندوں کے لیے اپنے ملک کی سرحدیں کھلی رکھیں گے۔

default

ترکی کی سرحدیں پار کرتے ہوئے شامی باشندے

ساتھ ہی ترک سربراہ حکومت نے دمشق میں شامی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ ملک میں فوری اور قابل اعتماد سیاسی اصلاحات کا عمل شروع کرے۔ انقرہ میں ترک وزارت خارجہ کے بیانات کے مطابق مارچ میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے آغاز سے لے کر اب تک سینکڑوں شامی مہاجرین ترکی میں پناہ لے چکے ہیں۔

شمالی شام کے علاقے جسر الشغور سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ترکی میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے، جہاں رواں ہفتے 120 سکیورٹی اہلکار مبینہ طور پر ہلاک کر دیے گئے تھے، جس کے جواب میں دمشق حکومت سخت اقدامات کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ ترکی کا رخ کرنے والے شامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ حکومتی ایکشن کے ڈر سے ہجرت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف مغربی طاقتوں نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف صدر بشار الاسد کے خونی کریک ڈاؤن کی مذمت کرے۔ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی کونسل میں جمع کروائی گئی اس قرارداد میں بشار الاسد کے خلاف سخت پابندیوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر مارک گرانٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پرتگال کی طرف سے تیار کی گئی اس قرارداد پر جلد ہی رائے شماری ہو گی۔ امریکہ نے بھی اس قرارداد کی حمایت کر دی ہے۔

NO FLASH Syrien Armee

شام میں حکومت مخالف مظاہرے مارچ میں شروع ہوئے تھے

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے لندن میں پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ روس اور چین کو اس قرارداد کو ویٹو نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی قابل اعتماد اطلاعات ہیں کہ شام میں ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دس ہزار سے زائد جیلوں میں قید ہیں،’ اگر کوئی اس قرارداد کو ویٹو کرتا ہے یا کوشش کرتا ہے تو پھر اس بات کا جوابدہ اس کا ضمیر ہو گا‘۔ روس اور چین دونوں ہی شامی حکومت کے خلاف اس قرارداد پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

دمشق حکومت پر سفارتی سطح پر اس نئے دباؤ کی ایک بڑی وجہ شامی باشندوں کی ترکی طرف مہاجرت بتائی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز 160 شامی شہریوں نے ترکی کی سرحد پار کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ کچھ دنوں میں کم ازکم 550 افراد ترکی کا رخ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہونے والی اس مہاجرت پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انٹونیو گوٹیریش نے بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کے بقول مارچ میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں شام میں اب تک ہلاک شدگان کی تعداد 1100 تک پہنچ چکی ہے۔ دمشق حکومت اس بحران کا ذمہ دار ’دہشت گرد گروپوں‘ کو قرار دیتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس