1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے مہاجرین ’مہلک برفیلے راستوں‘ پر

فرحان احمد صومالیہ میں جاری شورش سے فرار ہو کر بہتر اور پرامن زندگی کے خواب لیے امریکا پہنچا تھا، مگر وہاں تارکین وطن کے خلاف ممکنہ کریک ڈاؤن کے خدشات کی وجہ سے اس نے ایک خوف ناک سفر اختیار کیا اور کینیڈا پہنچ گیا۔

Flüchtlinge Grenze Mazedonien Serbien Balkan Route Winter Kälte (Reuters/M.Djurica)

شدید سردی کے باوجود تارکین وطن نقل مکانی پر مجبور ہیں

خوف شاید برف پوش راستوں اور انتہائی سرد ہواؤں سے بھی زیادہ کٹھن تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تارکین وطن اور مہاجرین کے خلاف سخت موقف کی وجہ سے صومالی شہری فرحان احمد سیاسی پناہ کے متلاشی متعدد دیگر افراد کے ساتھ امریکا سے کینیڈا پہنچ گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 36 سالہ فرحان احمد قریب دو درجن دیگر تارکین وطن کے ساتھ ہڈیوں تک میں اتر جانے والی سردی کی پرواہ کیے بغیر رواں ماہ امریکا سے کینیڈا پہنچا۔ اس سفر میں سرحدی محافظوں سے بچنے کے لیے ان تارکین وطن نے رات کے اندھیرے اور انتہائی دشوار گزار راستے کا انتخاب کیا۔

کینیڈا کے سرحدی علاقے ایمرسن میں کسی ایک ویک اینڈ پر اتنے تارکین وطن کے پہنچنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ کینیڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں مزید مہاجرین کی آمد کی توقع کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم اکثریتی ممالک شام، عراق، یمن، لیبیا، صومالیہ، ایران اور سوڈان کے شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی کے احکامات کے بعد تارکین وطن میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ گو کہ یہ احکامات عدالتی حکم نامے کے تحت عارضی طور پر معطل ہو چکے ہیں، تاہم کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نئے احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے احکامات ہی کے تناظر میں امریکا سے کینیڈا ہجرت کرنے والے ایک تارک وطن خاندان کی خبریں کچھ روز قبل سامنے آئی تھیں، جب بتایا گیا تھا کہ ایک دو سالہ بچہ اس کٹھن اور مہلک راستے میں مزید چلنے سے عاری ہو کر اپنی والدہ سے گڑگڑا کر کہہ رہا تھا کہ اسے برف ہی میں مرنے دیا جائے۔ دسمبر میں منفی 20 درجے سینٹی گریڈ کی سردی والے اس راستے کے ذریعے کینیڈا پہنچنے کی کوشش کرنے والے دو دیگر تارکین وطن کی انگلیاں ضائع ہو گئیں۔

امریکا اور کینیڈا کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک میں پہنچنے والے کسی مہاجر کو دوسرے ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست کی اجازت نہیں ہوتی، مگر اس معاہدے کا اطلاق ہوائی اڈوں اور ٹرین اسٹیشن کے ذریعے آنے والے تارکین وطن پر ہوتا ہے۔