1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’کریمنل‘ شامی مہاجرین کی واپسی بھی خارج از امکان، ڈے میزیئر

جرمن وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جرائم کے مرتکب شامی مہاجرین کو ان کے ملک واپس روانہ نہیں کیا جائے گا تاہم افغانستان کے کچھ علاقوں سے جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کے حوالے سے بتایا ہے کہ برلن حکومت کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں کہ اس طرح کے شامی مہاجرین کو ان کی وطن واپس روانہ کیا جا سکتا ہے۔

DW.COM

جرمن روزنامہ ڈیئر ٹاگس اشپیگل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈے میزئر نے کہا، ’’جب تک شام میں امن قائم نہیں ہوتا، تب تک ایسا کوئی امکان نہیں ہے۔‘‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیمو کریٹک یونین سے وابستہ سیاستدان تھوماس ڈے میزیئر کا مزید کہنا تھا کہ ایسے ممالک یا علاقے جہاں خانہ جنگی کا سلسلہ بدستور جاری ہے وہاں مہاجرین کی واپسی خارج از امکان ہے۔

جرمن وزیر داخلہ نے گزشتہ ہفتے ہی انسداد دہشت گردی کے لیے کچھ اقدامات تجویز کیے تھے تاکہ ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے امکانات کو کم کر دیا جائے۔ ان تجاویز میں کہا گیا تھا کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے یا مشتبہ دہشت گرد مہاجرین اور تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس روانے کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا جانا چاہیے۔

یہ امر اہم ہے کہ جرمنی میں پناہ کی غرض سے آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد میں افغان باشندوں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔ جرمنی آنے والے اس طرح کے افغان مہاجرین کے حوالے سے ڈے میزیئر کا تاہم مؤقف ہے کہ انہیں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

تھوماس ڈے میزیئر کے مطابق شام کے برعکس افغانستان میں کچھ ایسے علاقے ہیں، جو محفوظ ہیں اور وہاں مہاجرین کو واپس روانہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے اس بیان کا دفاع کرتے ہوئے مزید کہا کہ افغان حکام کے ساتھ مل کر جرمن سکیورٹی اہلکار افغانستان میں امن و سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش میں ہے۔

Thomas de Maiziere PK Bombenexplosion Ansbach

تھوماس ڈے میزیئر کے مطابق شام کے برعکس افغانستان میں کچھ ایسے علاقے ہیں، جو محفوظ ہیں اور وہاں مہاجرین کو واپس روانہ کیا جا سکتا ہے

جرمن وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہتر مستقبل کی کوشش میں افغانستان سے نوجوان افراد کی ایک بڑی تعداد جرمنی کا رخ کر رہی ہے لیکن جرمنی کو اس حوالے سے انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ جرمنی کی گرین پارٹی کے سیاستدان Boris Palmer کی طرف سے پیش کردہ اُس منصوبے پر سخت تنقید کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ تشدد پسند شامی مہاجرین کو شام کے ایسے علاقوں میں واپس روانہ کر دینا چاہیے، جو محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔