1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کرکٹ کھیلنے کے لیے صرف بھارت ہی نہیں ہے، آفریدی

پاکستانی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے ملکی کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ بھارت کے علاوہ دوسری ٹیموں کو بھی دورے کی دعوت دی جائے۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ حالیہ ایام میں بھارت کے ساتھ سیریز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا۔

شاہد آفریدی نے لاہور میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ بار بار بھارت کے ساتھ کرکٹ سیریز پر کیوں اتنا زور دے رہا ہے اور اِس کے بجائے دوسری کرکٹ ٹیموں کو بھی دعوت دی جائے۔ آفریدی نے یہ بات لاہور میں تربیتی کیمپ میں شرکت کے دوران کہی۔ یہ تربیتی کیمپ پاکستان کی زمبابوے کے خلاف محدود اوورز کی سیریز کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ زمبابوے کی ٹیم نے رواں برس مئی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اگلے برس ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ بھارت میں کھیلا جائے گا اور اُس سے قبل پاکستانی ٹیم زمبابوے، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف بیس بیس اوورز کی سیریز کھیلے گی۔

پاکستانی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم کو کھیلنے کی دعوت دی گئی ہے اور اگر وہ نہیں کھیلنا چاہتے تو اِدھر بھی اِتنی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شاہد آفریدی نے اگلے برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد محدود اوورز کی کرکٹ کو بھی خیرباد کہنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

Pakistan Kricket Zimbabwe vs. Pakistan

شاہد آفریدی زمبابوے کی ٹیم کے کپتان کے ہمراہ

رواں مہینے کے آخر میں پاکستانی کرکٹ ٹیم زمبابوے کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے والی ہے۔ اِس دورے کے لیے منتخب ٹیم کے حوالے سے شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ٹیم میں کئی نئے کھلاڑی منتخب کیے گئے ہیں۔ آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی قومی چیمپیئن شپ میں شریک کئی کھلاڑیوں کی کارکردگی سے متاثر ہونے کا بھی اظہار کیا ہے۔ ان کھلاڑیوں میں عمران جونیئر اور بلال آصف نمایاں ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی خاصی تعریف کی گئی ہے اور وہ زمبابوے کا دورہ کرنے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔

اُدھر پاکستان کرکٹ بورڈ ابھی بھی اِس انتظار میں ہے کہ بھارت متحدہ عرب امارات میں کرکٹ سیریز کھیلنے پر رضامند ہو جائے۔ بھارت رضامند ہو گیا تو یہ سیریز رواں برس دسمبر میں کھیلی جا سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز نے ایک مفاہمت پر دستخط کیے تھے کہ سن 2015 سے لے کر سن 2023 تک پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک دوسرے سے کم از کم چھ مرتبہ سیریز کھیلیں گی۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کو اِس معاہدے کے حوالے سے نئی دہلی حکومت کی منظوری کا انتظار ہے۔

پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان آخری مرتبہ ٹیسٹ سیریز سن 2007 میں کھیلی گئی تھی اور تب پاکستانی ٹیم بھارت گئی تھی۔