1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کرکٹ ڈپلومیسی، منموہن کی زرداری اور گیلانی کو دعوت

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری کو تیس مارچ بروز بدھ کو دونوں روایتی حریف ملکوں کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل دیکھنے کی دعوت دی ہے۔

default

یہ میچ بھارت کے شمالی شہر موہالی میں کھیلا جا ئے گا۔ ماہرین کی طرف سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی کے آغاز کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت کی طرف سے صدر زرداری اور وزیر اعظم کو پاک بھارت سیمی فائنل دیکھنے کے لیے بھیجے گئے دعوت نامے کی تصدیق کر دی ہے تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم نے بھارت جانے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

Krickett sorgt für Entspannung

صدر مشرف سن دو ہزار پانچ میں ایک روزہ سیریز کا فائنل میچ دیکھنے بھارت گئے تھے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مراسلے میں لکھا ہے، ’’مجھے بہت خوشی ہے کہ میں آپ کو موہالی کا دورہ کرنے کے لئے مدعو کر رہا ہوں۔ آپ میچ دیکھنے کے لیے تشریف لائیں اور دونوں ممالک کے لاکھوں مداحوں کے ساتھ میچ دیکھیں۔‘‘

بھارت اور پاکستان دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ گزشتہ ماہ فروری میں دونوں ممالک کی طرف سے جامع مذاکرات شروع کرنے اعلان کیا گیا تھا۔

دوہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ ان حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان بھارت میں یہ پہلا کرکٹ میچ ہوگا، جو آئندہ بدھ کے روز بھارتی صوبہ پنجاب کے شہر موہالی میں کھیلا جائے گا۔

کرکٹ سفارت کاری دونوں ممالک کے درمیان کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اس سے پہلے صدر مشرف سن دو ہزار پانچ میں ایک روزہ سیریز کا فائنل میچ دیکھنے بھارت گئے تھے۔ کرکٹ ڈپلومیسی کا آغاز 1987ء میں جنرل ضیا الحق نے کیا تھا، جب دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔ دونوں ممالک کی فوجیں سرحد کے قریب تھیں اور پاک بھارت جنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ تاہم اس دورے کے بعد بھی دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات میں بہتری پیدا ہوئی تھی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM