1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کرکٹ چیمپئنز ٹرافی پھر آسٹریلیا کے پاس

دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرا کر ایک مرتبہ پھر ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔ اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو چھ وکٹوں سے ہرایا۔

default

جنوبی افریقہ کے شہر سنچوریئن کے سپر سپورٹ پارک پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل بظاہر یکہ طرفہ رہا۔ آسٹریلیا نے دو سو ایک رنز کا مطلوبہ ہدف انتہائی سہولت اور اطمینان سے پورا کر لیا۔ فائنل میچ کو آسٹریلیا نے چھ وکٹوں سے جیت کر چیمپیئنز ٹرافی کے اعزاز کا شاندار انداز میں دفاع کیا۔

ابتداء میں آسٹریلوی بلے بازوں کو سپر سپورٹ پارک کی پچ پر کچھ دشواری کا ضرور سامنا رہا لیکن کیمرون وائٹ

Cricket Champions Trophy Südafrika

سنچوریئن کا سپر سپورٹ پارک

اور شین واٹسن نے انتہائی شاندار انداز میں فائنل کو جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم ٹورنامنٹ میں مسلسل انجریز کے باعث کھلاڑیوں سے محروم ہوتی رہی ہے۔ فائنل میچ سے قبل کپتان ڈینئل ویٹوری ہیمسٹرنگ یا ران کے پچھلے حصے کے عضلات میں شدید کھچاؤ کے باعث خاصی تکلیف میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اِس باعث وہ فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ٹورنامنٹ کا اہم ترین میچ کھیلنے سے محروم رہے۔ اُن کی جگہ پاٹیل کو ٹیم میں لیا گیا جو کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ ٹورنامنٹ کے دوران ویٹوری کا کھیل قابلِ تعریف رہا ہے۔ فائنل میں اُن کی کپتانی کے علاوہ بولنگ اور بیٹنگ میں بھی کمزوری کا واضح فرق پایا گیا۔

نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کلم نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا جو کچھ سود مند نہیں رہا۔ نیوزی لینڈ کے زوردار بیٹنگ کی وجہ سے شہرت رکھنے والے وکٹ کیپر بلے باز برینڈن میک کلم کو آسٹریلیا کے تیز باؤلر سڈل نے وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔ ویسے میک کلم کا صفر کے اسکور پر آسٹریلیا کے خلاف آؤٹ ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ میک کلم کا آسٹریلیا کے خلاف بلے بازی کا ریکارڈ کوئی بڑی بڑی اننگز سے بھرا ہوا نہیں ہے۔ وہ دوسری ٹیموں کے خلاف زوردار بیٹنگ ضرور کر لیتے ہیں لیکن آسٹریلوی ٹیم کے مقابلے میں عموماًاچھا اسکور کرنے میں

Ricky Ponting

کامیاب آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ اور ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی

ناکام رہتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم پچاس اوورز میں صرف دو سو رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ اِس اننگز میں گپٹل، بروم اور فریینکلن کی بہتر بیٹنگ بھی شامل ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے اسپن بولر ہورٹز نے تین اور بریٹ لی نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بریٹ لی نے نیوزی کے خلاف ایک روزہ میچوں میں پچاس وکٹیں حاصل کرنے کا سنگ میل بھی اِسی میچ کے دوران عبور کیا۔

ایسا دکھائی دیتا تھا کہ آسٹریلیا کے لئے نیوزی لینڈ کا یہ ٹارگٹ آسان رہے گا لیکن پہلے وکٹ کیپر بلے باز پائین اور پھر کپتان رکی پونٹنگ کی وکٹیں حاصل کرنے کے بعد آسٹریلیا کے کریز پر موجود کھلاڑیوں کیمرون وائٹ اور شین واٹسن نے محتاط انداز میں ٹارگٹ کے حصول میں کھیلنا شروع کردیا۔ بعض اوقات دونوں بلے بازوں نے جارحانہ کھیل بھی پیش کیا۔ پونٹنگ کے آؤٹ ہونے پر آسٹریلیا کا اسکور صرف چھ رنز تھا۔ اِس کے بعد نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپر میک کلم نے کیمرون وائٹ کا ایک آسان کیچ بھی چھوڑا۔ اگر یہ کیچ پکڑا جاتا تو آسٹریلوی ٹیم پر دباؤ بڑھ سکتا تھا۔ وائٹ اور واٹسن کے درمیان ایک سو اٹھائیس رنز کی شاندا پارٹنر شپ قائم ہوئی اور اِسی شراکت نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی جیت کو حقیقت کا روپ دیا۔ کیمرون وائٹ نے باسٹھ رنز اسکور کئے۔

Cricket Champions Trophy Südafrika

نیوزی لینڈ کے کائل ملز رن آؤٹ ہوئے

ایسا لگتا تھا کہ سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف جہاں شین واٹسن نے سینچری مکمل کرنے کے بعد اپنی اننگز ادھوری چھوڑی تھی وہیں سے شروع کی تھی۔ انگلینڈ کے خلاف ایک سو تیس سے زائد رنز کی ناٹ آؤٹ اننگ سات چھکوں سے سجی تھی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف بھی واٹسن نے زوردار کھیل کا مظاہرہ ضرورت کے وقت کیا۔ فائنل میچ میں بھی واٹسن نے شاندار ایک سو پانچ رنز بنائے جس میں چار چھکے شامل تھے۔ واٹسن فائنل میچ کے بہترین کھلاڑی قرار دیئے گئے جب کہ پونٹنگ کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

وائٹ کے آؤٹ ہونے کے بعد مائیک ہسی میدان میں اُترے تو انہوں نے ٹارگٹ کو کم کرنے کے لئے قدرے تیز کھیل کا مظاہرہ کیا۔ اِس تیزی کی وجہ سے وہ اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ وہ نو گیندوں پر گیارہ رنز بنا کر پیویلئن کو لوٹے۔ نیوزی لینڈ کے سب سے کامیاب بولر کائل ملز تھے جنہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

تمام اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل میچ باوقار انداز میں جیتا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے زخمی کھلاڑی بھی موجود ہوتے تو شاید اسکور ڈھائی سو تک پہنچ پاتا اور تب ہی شائقین کو فائنل میچ میں زوردار مقابلہ دیکھنے کو ملتا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM