1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کرکٹ چاچاؤں کو بھارت کا ویزہ نہیں ملا

کرکٹ کے نامور مداح عبدا لجلیل جنھیں ’چاچا کرکٹ‘ اور محمد زمان جنہیں ’کرکٹ چاچا ٹی ٹوئنٹی‘ کہا جاتا ہے ، بھارت کا ویزہ نہ ملنے کے باعث ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی نہیں کر پا رہے۔

یہ دونوں کرکٹ چاچا اپنے مخصوص ہری شلوار قمیض اور داڑھیوں سے بہت مشہور ہیں اور یہ کئی دہایوں سے پاکستان کے کرکٹ میچوں کو دنیا بھر میں جا کر دیکھتے اور اپنے نعروں سے تماشائیوں میں جوش پیدا کرتے رہے ہیں۔

کرکٹ چاچا

لمبی سفید داڑھی والے 67 سالہ عبدالجلیل کو پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی جانب سے پاکستان ٹیم کے میچ کرکٹ گراؤنڈ میں جا کر دیکھنے کے لیے ہر ماہ 26 ہزار روپے دیے جاتے رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کرکٹ چاچا نے کہا، ’’مجھے بہت دکھ ہے کہ سن 1998 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میں پاک بھارت میچ کرکٹ اسٹیڈیم میں نہیں دیکھ پاؤں گا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ 5 برس سے پی سی بی نے بیرون ملک ہونے والے میچوں کے لیے میرے ٹکٹ کے پیسے دینا ختم کر دیے ہیں اور تین ماہ قبل انہوں نے مجھے پی سی بی کی جانب سے ہر ماہ ملنے والے 26 ہزار روپے جیب خرچ بھی بند کر دیا ہے۔

کرکٹ چاچا کے مطابق اس کے باوجود وہ اپنے خرچے پر پاکستان ٹیم کے میچ دیکھنے جاتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ انہیں بھارت کا ویزہ لینے کے لیے پی سی بی کی طرف سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔

کرکٹ چاچا ٹی ٹونٹی

48 سالہ محمد زمان جنھیں چاچا ٹی ٹوئنٹی کہا جاتا ہے، اپنی لمبی کالی مونچھوں اور سفید پگڑی سے جانے جاتے ہیں، انہیں بھی اس مرتبہ بھارت کا ویزہ نہیں مل سکا۔ محمد زمان کا کہنا ہے،’’ میں بھارت جا کر پاکستان کی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہوں ، میرے نعروں سے تماشایوں میں جوش پیدا ہوتا ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ سن 1980 کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میں کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان کا میچ نہیں دیکھ پا رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ انہیں بھی پی سی بی کی جانب سے بھارت کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے مدد نہیں ملی۔ محمد زمان کہتے ہیں کہ انہوں نے سن 2012 میں متحدہ عرب امارات میں اپنی نوکری اس لیے چھوڑی کیوں کہ ان کی کمپنی انہیں ایشیا کپ دیکھنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ چاچا کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک اور ٹیم کی محبت کی خاطر اپنی نوکری چھوڑ دی۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں پیسے نہیں چاہیں ، صرف بھارت کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے پی سی بی کی مدد چاہیے تھی۔

DW.COM