1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کرکٹ ورلڈ کپ کون جیتے گا ؟

الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے اور عالمی کپ شروع ہونے میں چند ہی روز باقی رہ گئے ہیں۔ سابق پاکستانی کپتان عمران خان کے مطابق سری لنکا اور بھارت فیورٹ ٹیمیں ہیں جبکہ ورلڈ کپ پاکستان بھی جیت سکتا ہے۔

default

متواتر تین بار کا دفاعی چمپئن آسٹریلیا گز شتہ 27 عالمی کپ میچوں میں ناقابل شکست رہا ہے مگر ٹورنامنٹ شروع ہونے سے دو ہفتے پہلے مائیکل ہسی اور اسپنر نیتھن ہورز کا زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہونا آسٹریلیا کے لیے 440 وولٹ کے جھٹکے سے کم نہیں۔ آسٹریلوی صلاحیتوں کے بڑے معترف عمران خان کے مطابق بھی خلیل خان کے اکیلے ہی فاختہ اڑانے کے دن اب تمام ہونے کو ہیں۔

عمران نے بتایا کہ آسٹریلیا کو ہرانے کا یہ سب سے سنہری موقع ہے کیونکہ یہ1987ء کے بعد عالمی کپ کھیلنے والی آسٹریلیا کی سب سے کمزور ٹیم ہے۔

Imran Khan

عمران خان کے مطابق سری لنکا اور بھارت فیورٹ ٹیمیں ہیں

سن 1975 اور 1979ء کے پہلے دو ورلڈ کپ میں پاکستان کی قیادت کرنے والے آصف اقبال کا کہنا ہے کہ 2011ء میں کامیابی کا قرعہ کسی کے نام بھی نکل سکتا ہے۔ آصف اقبال نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ ٹورنامنٹ اوپن ہے اور اب ماضی کی طرح آسٹریلیا کی ٹیم جیت کی دعویدار نہیں رہی۔ پاکستانی ٹیم کے پاس بھی اتنا ہی موقع ہے، جتنا بھارت یا کسی دوسری ٹیم کے پاس۔

آصف اقبال کے مطابق بھارت، پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں پر دوسروں سے زیادہ دباﺅ ہوگا مگر وہی ٹیم جیتے گی، جو دباﺅ کو بہتر ہینڈل کر سکے گی۔

ایشین بریڈ مین ظہیر عباس کے مطابق بھارت، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں اس بار سیمی فائنل میں پہنچ جا ئیں گی۔ ظہیر نے بتایا کہ پاکستان کی ٹیم نے اگر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تو وہ اس ٹیم کا کارنامہ ہو گا۔

فیورٹس کی بحث میں، دنیا میں سب سے زیادہ چھ ورلڈ کپ کھیلنے والے جاوید میانداد کی رائے ظہیر عباس سے کافی مختلف ہے۔ جاوید میانداد نے بتایا ماضی میں کبھی بھی کوئی فیورٹ ٹیم ورلڈ کپ نہیں جیتی۔ ون ڈے میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

پاکستان کی طرف سے ورلڈ کپ مقابلوں میں سب سے زیادہ تین سینچریاں اسکور کرنے والے سابق کپتان رمیز راجہ اسپاٹ فکسنگ کی پاداش میں تین اہم کرکٹرز کے بغیر بھی ورلڈ کپ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کو نظر انداز کرنے کو تیار نہیں۔ رمیز کے مطابق 1992ء میں بھی کوئی پاکستان کا نام نہیں لے رہا تھا مگر ہم جیت گئے۔ اس بار بھی اگر شاہد آفریدی نے وسائل کا درست انداز میں استعمال کیا تو پاکستان پھر سے تاریخ رقم کر سکتا ہے۔ یہ ٹیم ٹیلنٹ کے لحاظ سے 1992ء کی ٹیم سے کہیں زیادہ بہتر اور ذہنی طور پر مضبوط ہے۔ رمیز راجہ کے خیال میں سب سے زیادہ دباﺅ بھارت کی ٹیم پر ہوگا۔

ورلڈ کپ میں کوئی بھی کسی ٹیم کی کامیابی کی ضمانت دینے پر تیار نہیں ہے مگر برصغیر کے تیرہ شہروں میں اگلے 45 دن مستقبل کے چمپئن کے ساتھ خود ون ڈے کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہوں گے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM