1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل، حتمی معرکے کے لیے ٹیمیں تیار

کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں جنوبی ایشیا کی دو فیورٹ ٹیمیں مد مقابل ہیں۔ سری لنکا اور بھارت کے مابین ہونے والے اس مقابلے میں دونوں ٹیموں نے بھرپور تیاری کر رکھی ہے جبکہ دونوں ممالک کے عوام ایک زوردار میچ کی توقع کر رہے ہیں۔

default

اس فائنل سے ایک روز قبل یعنی جمعہ کو سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کوچ نے تصدیق کر دی ہے کہ ان کے اسٹار آل راؤنڈر اینجلو میتھیوز اس ٹورنامنٹ کے حتمی معرکے میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اب میھتیوز کے بجائے سوراج راندیو کو پندرہ رکنی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔

مڈل آرڈر کے تجربہ کار بلے باز میتھیوز ایک اچھے سیم بولر بھی ہیں۔ ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے سری لنکن ٹیم کے بیٹنگ آرڈر پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ میتھیوز نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے سیمی فائنل میچ میں زخمی ہو گئے تھے۔

Flash-Galerie Sri Lanka Cricket

مڈل آرڈر کے تجربہ کار بلے باز میتھیوز ایک اچھے سیم بولر بھی ہیں

1996ء میں عالمی کپ کرکٹ کی فاتح ٹیم سری لنکا کو انجری مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مایہ ناز آف اسپنر مرلی دھرن بھی اس وقت انجری کا شکار ہیں۔ تاہم سری لنکا کے کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف فائنل میں ضرور کھیلیں گے۔ مرلی دھرن بھارت کے خلاف کھیلے جانے والے اپنے اس میچ کے بعد دنیائے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیں گے۔

دوسری طرف بھارتی فاسٹ بولر اشیش نہرا بھی اپنی انگلی زخمی کروا بیٹھے ہیں۔ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ وہ اپنی انجری کی وجہ سے عالمی کپ 2011ء کے فائنل میچ سے باہر کر دیے جائیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھارتی کپتان مہیندر سنگھ دھونی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ شاید نہرا فائنل میچ میں حصہ نہ لیں، ’بہت ممکن ہے کہ اشیش نہرا کو حتمی ٹیم میں شامل نہ کیا جائے۔‘

جمعہ کو ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دھونی نے امکان ظاہر کیا کہ نہرا کی عدم موجودگی میں فاسٹ بولر ہی ٹیم میں شامل کیا جائے گا، ’ممبئی میں وکٹ تیز ہے اور یہاں گیند باؤنس کرے گی، اگر وہاں ریورس سونگ میں مدد ملنے کی توقع ہے تو مناسب ہے کہ تیز بولر کو ہی ٹیم میں شامل کیا جائے۔‘

بھارت نے 1983ء میں عالمی کپ میں جیت کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے۔ اس مرتبہ جو ٹیم بھی فائنل میں کامیابی حاصل کرے گی، اسے دوسری مرتبہ یہ اعزاز حاصل ہو گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM