1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کرکٹ اور ہاکی کے بعد اب پاک بھارت ’ٹینس ڈپلومیسی‘

پاکستان نے ایک بھارتی ٹینس کوچ کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس غیرمثالی پیش رفت سے کھیل کے فروغ کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا موقع بھی ملے گا۔

default

پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر کلیم امام کا کہنا ہے کہ انہیں بھارتی کوچ بیربل ودھیرا کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد حکومت کی جانب سے منظوری حاصل ہے۔ یہ کوچ پاکستان میں سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں کو تربیت دیں گے۔

امام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’ودھیرا معروف کوچ ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ موجودہ کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ جونیئرز کو بھی آگے لانے میں ہماری مدد کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا موقع بھی ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا، ’پہلے مرحلے میں سینئر کھلاڑیوں کو تربیت دی جائے گی، اس کے بعد رینکنگ کھلاڑیوں کا نمبر آئے گا جبکہ بعد میں جونیئر کھلاڑیوں کی باری آئے گی‘۔

اس مقصد کے لیے ٹریننگ کیمپ دس مئی سے اسلام آباد میں شروع ہو گا۔ دوسری جانب ودھیرا نے کہا ہے کہ سرحد کی دوسری جانب کوچ کے طور پر فرائض کی انجام دہی ان کے لیے اعزاز ہے۔

وزیرستان میں نمائشی ٹینس میچ

پاکستان کے ٹینس حکام نے افغانستان کی سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں ایک نمائشی ٹینس میچ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کا مقصد اس قبائلی پٹی میں امن کے فروغ کے ساتھ یہ ظاہر کرنا بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔

Pakistan Landschaft in Waziristan Luftaufnahme

پاکستان کے قبائلی علاقے کا فضائی منظر

پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سیکرٹری ممتاز یوسف نے خبر رس‍اں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ رواں برس جون اور جولائی میں وزیرستان میں چند نمائشی میچ کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں لگتا ہے کہ فیڈریشن کو اس بحران زدہ علاقے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح ہم بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باوجود پاکستان میں کھیلوں کی سرگرمیاں رکھی جا سکتی ہیں‘۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں مقامی فورسز انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہیں۔ اسی علاقے میں سرگرم پاکستانی طالبان ملک کے کئی شہروں میں ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس