1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرکٹ اور الیکشن ایک ساتھ، بھارت کے سیکیورٹی خدشات

بھارت میں اگلے ماہ دو بڑے میلے شروع ہونے والے ہیں۔ ایک تو عام انتخابات کا میلہ جو6 اپریل سے شروع ہوکر 13 مئی تک چلے گا دوسرا ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کا میلہ جو 10 اپریل سے شروع ہوکر 24مئی کو ختم ہوگا۔

default

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم

بھارت میں لوگ بڑے جوش وخروش اور محبت کے ساتھ کرکٹ کے مقابلے دیکھتے ہیں لیکن لاہور میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں نے انڈین پریمیر لیگ کے مقابلوں کو بھی متاثر کردیا ہے۔ حکومت سیکیورٹی خدشات کی آڑ لے کران مقابلوں کو موخر کرانا چاہتی ہیں۔

حکومت کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیاں بھی کرکٹ کے ان دلچسپ مقابلوں کو موخر کرانے کے لئے اپنا پورا زور صرف کررہی ہیں۔ انہیں یہ خوف ستا رہا ہے کہ اگر انڈین پریمیر لیگ کے مقابلے اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق ہوئے تو ان کے انتخابی جلسوں کی رونق پھیکی پڑسکتی ہے لیکن وہ کھل کر اس حقیقت کا اظہار کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کو سب سے زیادہ پریشان ہے کیوں کہ شہروں میں رہنے والا مڈل کلاس طبقہ اس کا سب سے بڑا ووٹ بینک ہے ۔ بی جے پی کے رہنما ارون جیٹلی اور حکمرا ں متحدہ ترقی پسند اتحاد میں شامل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پواردونوں ہی بھارتی کرکٹ بورڈ اور انڈین پریمیر لیگ کے بورڈ میں شامل ہیں لیکن دونو ں کی مجبوری یہ ہے کہ انتخابات کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہوجانے کی وجہ سے وہ ان کرکٹ مقابلوں سے کوئی سیاسی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے اور ان مقابلوں میں ان کی موجودگی بھی ان کے مخالفین کے لئے ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کی آڑ لے کر مقابلوں کو ملتوی کرنا درست نہیں ہے کیوں کہ کرکٹ میچوں میں سیکیورٹی کی ذمہ داری بالعموم مقامی پولیس کی ہوتی ہے اور منتظمین خود بھی نجی سیکیورٹی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹونٹی ٹونٹی پریمیر لیگ کے مقابلے صرف دس شہروں میں ہوں گے اور اگر ناگزیر ہو تو صرف انہیں شہروں میں الیکشن کو دیکھتے ہوئے میچوں کی تاریخیں تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔سابق کرکٹر اور ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ جیتنے والی بھارتی ٹیم کے رکن مدن لال کا خیال ہے کہ آئی پی ایل کے مقابلے اپنے وقت پر ہی ہونے چاہئیں اور انہیں موخر کرنے سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایک طرف انتخابات اور دوسری طرف آئی پی ایل کے میچوں کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز پر زیادہ دباو پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ابتدائی اندازے کے مطابق ہمارے خیال سے الیکشن کمیشن کی ضروریات اور 40 میچوں کے لئے ایک ساتھ نیم فوجی دستے فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔‘‘

دریں اثنا بھارتی وزیر داخلہ نے پاکستان کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کردیا کہ لاہور میں ہوئے حملے میں بھارت کسی بھی طرح سے ملوث ہے۔ پی چدمبرم نے اسلام آباد کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہو تو پیش کرے۔چدمبرم نے کہا کہ ’’ ہمیں خدشہ ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہوا، اس کے اثرات بھارت پر نہ پڑیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم جنوبی ایشیا میں امن چاہتے ہیں۔ ہم جنوبی ایشیا کو دہشت گردی سے پاک چاہتے ہیں۔ ہم دہشت گردی برآمد نہیں کرتے اور نہ ہی دہشت گردی کو برداشت کرتے ہیں۔ دہشت گردی خواہ بھارت میں ہو یا باہر ہم اسے برداشت نہیں کرسکتے۔‘‘

اس دوران وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے علالت کے بعد اپنا کام کاج سنبھال لیا ہے۔گذشتہ 24جنوری کو ان کے دل کا آپریشن کیا گیا تھا ۔ کام کاج سنبھالنے کے فورا بعد انہوں نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ساتھ ملک کی سیکیورٹی کی تازہ ترین صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔