1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرپشن کے الزامات: ٹیلی مواصلات کے بھارتی وزیر مستعفی

بھارت میں ٹیلی مواصلات کے ملکی وزیر موبائل فون آپریٹرز کو bandwidth کی فروخت سے متعلق وفاقی سطح پر چھان بین کے بعد سامنے آنے والے بدعنوانی کے الزامات کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

default

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ: فائل فوٹو

نئی دہلی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کانگریس کی سربراہی میں کام کرنے والی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی مخلوط حکومت میں شامل جنوبی بھارت کی سیاسی جماعت DMK سے تعلق رکھنے والے ٹیلی کمیونیکیشن کے ملکی وزیر اے راجہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ اتوار کے روز دیا۔

اندیموتھو راجہ کے حوالے سے ملکی اپوزیشن کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ کئی دنوں سے یہ مطالبے کر رہی تھی کہ مبینہ طور پر بدعنوانی کے مرتکب اس وزیر کو اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اس پر متعلقہ وزیر نے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لئے کیا کہ ’حکومت کو شرمندگی سے بچایا جا سکے اور ملکی پارلیمان کی معمول کی کارروائی میں کوئی خلل نہ پڑے۔‘

اس بھارتی سیاستدان نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا: ’’ملک کے لئے جو کچھ مجھ سے ہو سکا، وہ میں نے کیا۔ میرا ضمیر مطمئن ہے۔ میں نے کوئی بھی کام قانون کے خلاف نہیں کیا۔‘‘

Tamil Nadu - The Land of Tamils

بھارت میں صنعتی ترقی کے ساتھ مواصلاتی نظام بھی سارے ملک میں پھیل رہا ہے

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک اور بڑی تیزی سے اقتصادی ترقی کرنے والے بھارت میں ٹیلی مواصلات کا شعبہ عالمی سطح پر سب سے تیز رفتاری سے پھیلنے والی موبائل فون مارکیٹ ہے۔ اندیموتھو راجہ پر بھارتی اپوزیشن کی طرف سے الزام لگایا جاتا ہے کہ 2008ء میں جب بھارت میں مختلف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو موبائل فونز کی سیکنڈ جنریشن کے لئے bandwidth حقوق فروخت کئے گئے تھے، تو ان کی قیمتیں اس وقت کی معمول کی تجارتی قیمتوں سے دانستہ طور پر کم رکھی گئی تھیں، جن سے بھارتی حکومت کو مبینہ طور پر اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

اے راجہ کے مستعفی ہو جانے کے بعد اپنے فوری رد عمل میں اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے من موہن سنگھ حکومت سے اخراج کے فیصلے کو جمہوریت کی فتح قرار دیا۔

اندیموتھو راجہ سے پہلے اسی مہینے بھارت میں حکمران کانگریس پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے دو دیگر سیاستدان بھی بدعنوانی کے الزامات کے بعد اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو گئے تھے۔ ان سیاستدانوں کو بھی اپنے اپنے شعبوں میں کرپشن کے الزامات کا سامنا تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس