1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کرپشن میں اضافہ، سماجی عدم مساوات کا سبب

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مختلف ملکوں میں پائی جانے والی کرپشن کی عالمی درجہ بندی جاری کر دی ہے۔ سن 2016 میں سب سے کم کرپشن کے حامل ملک نیوزی لینڈ اور ڈنمارک ہیں جبکہ پاکستان 116 ویں مقام پر ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مختلف اقوام میں پائی جانے والی کرپشن اور مالی بدعنوانی کے حوالے سے جو سالانہ انڈیکس جاری کیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ بڑھتی مالی بےضابطگیاں سماجی ناہمواری کو فروغ دے رہی ہے۔

اس انڈیکس کو مرتب کرنے میں برلن میں قائم اس ادارے کو ورلڈ بینک، افریقی ترقیاتی بینک اور کئی دوسرے اہم مالیاتی و سماجی اداروں کا تعاون حاصل رہا ہے۔

اس انڈیکس میں نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کو سب سے کم بدعنوان اقوام کا درجہ دیا گیا ہے۔ دوسری پوزیشن پر فن لینڈ اور تیسری پر سویڈن ہے۔ جرمنی کرپشن سے پاک ملکوں کی فہرست میں دسویں نمبر پر ہے۔ اسی دسویں پوزیشن پر لکسمبرگ اور برطانیہ بھی ہیں۔ امریکا کو اٹھارہویں پوزیشن حاصل ہے۔ برازیل، چین اور بھارت مشترکہ طور پر 79 ویں نمبر پر ہیں۔

پاکستان کو کرپشن کی عالمی درجہ بندی میں 116ویں پوزیشن دی گئی ہے۔ اس پوزیشن پر افریقی ملک مالی اور تنزانیہ بھی ہیں جبکہ کریبئن ملک ٹوگو بھی پاکستان کے ساتھ ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس انڈیکس میں176 ملک شامل کیے ہیں۔  سب سے نچلی پوزیشن صومالیہ کو دی گئی ہے۔ شام، شمالی کوریا اور جنوبی سوڈان کو صومالیہ سے اوپر پوزیشن حاصل ہے۔

Bundeskunsthalle Bonn - Ausstellung Das Bauhaus - Alles ist Design (Vitra Design Museum, Jürgen Hans)

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بڑھتی مالی بےضابطگیاں کو سماجی ناہمواری کو سبب قرار دیا ہے

اِس رپورٹ میں بتایا گیا کہ فٹ بال ورلڈ کپ کے حوالے سے مبینہ کرپشن کے تناظر میں خلیجی ریاست قطر کی پوزیشن نیچے چلی گئی ہے۔ گزشتہ برس کی درجہ بندی میں قطر کو اکتیسواں مقام حاصل ہے۔ مسلم دنیا میں متحدہ عرب امارات کو سب سے بہتر پوزیشن ملی ہے اور یہ چوبیسویں ہے۔

 اس رپورٹ کے مطابق عوامیت پسند لیڈر مثلاً امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانس میں مارین لے پین واشگاف انداز میں ’بدعنوان اشرافیہ‘ کی بات کرتے ہوئے متوسط طبقے کی محرومیوں کا ذکر کرتے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی حامی سیاسی جماعتیں پوری طرح ورکنگ کلاس کی معاشی و سماجی مشکلات کم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب دو روز قبل امریکی دارالحکومت کی شہریوں کی اخلاقیات کی کمیٹی نے اپنے وکلاء کے ذریعے نئے امریکی صدر ٹرمپ پر ایک مقدمہ دائر کیا ہے کہ وہ مفادات کے ٹکراؤ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے اس مقدمے کو بےبنیاد قرار دیا ہے۔