1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرپشن ختم کریں گے: کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے دوبارہ انتخاب کے ایک روز بعد آج منگل کو اعلان کیا کہ ان کی قیادت میں نئی افغان انتظامیہ ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے خلاف پھر پور جنگ کرے گی۔

default

حامد کرزئی دوسری مدت کے لئے افغان صدر منتخب ہو چکے ہیں

افغان الیکشن کمیشن کی طرف سے حامد کرزئی کے دوبارہ انتخاب کا اعلان دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے لئے ان کے واحد حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ کے سات نومبر کی رائے دہی کے بائیکاٹ کے بعد ممکن ہوا تھا۔ یوں کرزئی دوسری پانچ سالہ مدت کے لئے بلا مقابلہ ہی صدر منتخب ہو گئے۔ اپنی کامیابی کے ایک روز بعد آج کابل میں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے افغانستان اور کابل حکومت کی ساکھ بہت متاثر ہوئی ہے۔ اس لئے وہ ملک سے کرپشن کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں، اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ ماضی میں برس ہا برس تک خود کرزئی حکومت پر وسیع پیمانے پر کرپشن کے الزام لگائے جاتے رہے ہیں۔

اپنی قیادت میں کابل میں نئی ملکی حکومت کے بارے میں حامد کرزئی نے کہا کہ وہ ایک ایسی انتظامیہ تشکیل دیں گے، جس میں وہ ہر اُس شخص کو شامل کرنے پر بھی تیار ہیں، جو اُن کے ساتھ اشتراک عمل پر آمادہ ہو۔

Abdullah Abdullah / Afghanistan

کرزئی کے سب سے بڑے حریف عبداللہ عبداللہ دوسرے مرحلے سے دستبردار ہوگئے تھے

حامد کرزئی نے کل تک کے اپنے انتخابی حریف اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ سے بھی سیاسی تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ہوتا اگر وہ سات نومبر کے لئے طے کردہ رائے دہی کا بائیکاٹ نہ کرتے۔

"نئی حکومت ایک متحدہ حکومت ہو گی، جو افغانستان کے تمام شہریوں کی نمائندگی کرے گی۔ اسی لئے میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ مجھے اپوزیشن کے طور پر کسی خاص گروپ یا شخصیت کا سامنا نہیں ہے۔ میری کوئی سیاسی پارٹی بھی نہیں ہے۔ تمام افغان باشندوں کی اس حکومت میں جو کوئی بھی میرے ساتھ چلنا چاہتا ہے، اُس کا خیر مقدم کیا جائے گا، قطع نظر اس کے کہ وہ انتخابات کے دوران میرا حامی تھا یا مخالف۔"

کابل میں آج حامد کرزئی نے بدعنوانی کے خلاف جنگ اور کابل میں تمام افغان باشندوں کی نمائندہ ملکی حکومت کے حوالے سے جو بیان دیا، اُس پر طالبان عسکریت پسندوں نے بھی اپنے فوری رد عمل کا اظہار کیا۔ خبر ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حامد کرزئی کٹھ پتلی صدر ہیں، جو خود امریکہ اور برطانیہ کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ طالبان نے اپنے رد عمل میں افغان صدر کی ذات پر حملہ کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کوئی رہنما خود ہی بدعنوان ہو، تو وہ بدعنوانی کا خاتمہ کیسے کر سکتا ہے۔

افغانستان میں بدعنوانی کے خلاف کامیاب جنگ کی ضرورت آج اتنی زیادہ ہے جتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ اس کا اظہار پیر کے روز دوبارہ انتخاب کے بعد برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے حامد کرزئی کے نام مبارکباد کے اس پیغام سے بھی ہوتا ہے، جس میں گورڈن براؤن نے کہا تھا: "افغانستان میں اب ہنگامی بنیادوں پر بدعنوانی کا خاتمہ ہونا چاہئے، اور افغان عوام کو اپنا مستقبل خود تشکیل دینے کا بھر پور موقع ملنا چاہئے۔"

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : مقبول ملک

DW.COM