1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرپشن انڈکس میں جنوبی ایشیا میں پاکستان کی پوزیشن میں بہتری

بدعنوانی کے خلاف عالمی سطح پر سرگرم ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سن دو ہزار پندرہ کے لیے جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

آج بدھ ستائیس جنوری کو جاری کی گئی ٹرانسپیرنسی کی اس تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں پاکستان عالمی سطح پر کرپشن میں 50 ویں نمبر پر تھا جبکہ گزشتہ برس بدعنوانی میں کمی کے بعد اس کی پوزیشن تین درجے بہتر ہو گئی، جو اس وقت 53 ویں بنتی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پاکستان میں مشیر اور اس رپورٹ سے متعلق معاملات کے ترجمان سید عادل گیلانی نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یہ سروے ہر سال ریلیز کرتا ہے لیکن وہ خود یہ سروے نہیں کرتا بلکہ گیارہ مختلف سروے ہیں۔ فریڈم ہاؤس، ورلڈ بینک، امریکن ڈیویلپمنٹ بینک، رول آف لاء وغیرہ جیسے ادارے 168 ملکوں میں کرپشن کی جو رینکنگ کرتے ہیں، اسے جمع کر کے اوسط نکالی جاتی ہے۔ اس طرح یہ عالمی سی پی آئی (کرپشن پرسیپشنز انڈکس) تیار کیا جاتا ہے۔‘‘

سید عادل گیلانی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس بار پہلے نمبر پر سو میں سے اکانوے نمبر حاصل کر کے دوسرے سال بھی ڈنمارک سرفہرست رہا جبکہ شمالی کوریا اور صومالیہ آٹھ آٹھ پوائنس کے ساتھ کم ترین درجے پر رہے۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان کا سی پی آئی اسکور ایک پوائنٹ کے اضافے کے ساتھ بڑھ کر تیس ہو گیا ہے۔ اس طرح پاکستان کی رینکنگ میں تین درجے بہتری آئی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ سارک کی رکن ریاستوں میں سے پانچ ممالک میں سے پاکستان وہ واحد ملک ہے، جس کا سی پی آئی اسکور بہتر ہوا ہے۔ باقی چار جنوبی ایشیائی ملکوں کا اسکور یا تو پہلے جتنا ہی ہے یا پھر وہ قدرے کم ہوا ہے۔‘‘

سید عادل گیلانی نے مزید کہا، ’’پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کرپٹ عناصر تو جوں کے توں موجود ہیں لیکن پاکستان میں موجود قوتوں نے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جیسے نیب نے ایکشن لیا، جیسے رینجرز کا آپریشن جاری ہے، جیسے عدالتوں نے سزائیں سنانا شروع کر دی ہیں اور جیسے گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔ پہلے ایسا نہیں ہوتا ہو گا۔ اس لیے پاکستان کے نمبر کم تھے لیکن اب صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔‘‘

پاکستان میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مشیر عادل گیلانی نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ انٹرویو میں بتایا، ’’ٹرانسپیرنسی کی اس رپورٹ کا اچھا اثر ملک میں جاری دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف جنگ پر بھی پڑے گا اور ہمیں مزید بہتری کی امید ہے۔ اگر سارے ادارے قاعدے اور قانون کے مطابق کام کریں اور ہر کوئی اپنے اپنے فرائض انجام دے تو پاکستان میں بدعنوانی میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس طرح ملکی اقتصادی صورت حال میں بھی مزید بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ اگر حکومت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی تجاویز پر عمل کرے تو پاکستان کا سی پی آئی اسکور اور بھی اچھا ہو سکتا ہے۔‘‘

پاکستان کے قومی احتساب بیورو یا نیب کے ترجمان محمد بلال خان نے اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں کرپشن میں کمی لانے میں ہمارا بہت ہاتھ ہے۔ ہم نے نیب کے اندر بھی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اس کے بعد سے کئی مسائل خود بخود ختم ہو گئے ہیں۔ ہم نے 'ڈیٹ آف کیس‘ کا سسٹم بھی متعارف کرایا ہے، یعنی کسی کیس کو بہرصورت دس ماہ کے اندر اندر متعلقہ عدالت میں لے جایا جائے گا تاکہ قصور وار افراد سزا پا سکیں۔ ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا، سن دو ہزار پانچ کا کیس اب تک چل رہا ہے، اب ہر کیس کے لیے دس مہینے کی ڈیڈ لائن مقرر ہے۔‘‘

محمد بلال خان کے بقول ان اقدامات کے علاوہ اس سال نیب کی تاریخ کی سب سے زیادہ گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔ عدالتوں میں زیادہ کیس فائل ہوئے اور سماعت کا عمل بھی تیز رفتار رہا۔

آج جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کرپشن کی روک تھام کے لیے اپنے پڑوسی ملکوں چین، بھارت، ایران اور افغانستان اور ان کے علاوہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے مقابلے میں قدرے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ ممالک پاکستان سے زیادہ بدعنوان ہیں۔ لیکن یہ ریاستیں یا تو اپنی گزشتہ رینکنگ پر ہی رہی ہیں یا پھر 2015ء میں ان کے پوائنٹس کچھ کم ہو گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا گزشتہ برس کا CPI اسکور اس سے ایک سال پہلے یعنی 2014ء کے مقابلے میں بہتر تو ہوا ہے لیکن یہ اور بھی بہتر ہو سکتا تھا۔ اس مزید بہتری کے لیے پاکستان کو بدعنوانی کو قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنانا ہو گی۔