1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کروڑوں بچے جان کو لاحق خطرات کے باوجود مزدوری پر مجبور

دنیا بھر کے لگ بھگ ساڑھے گیارہ کروڑ بچے آج بھی ایسی محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں جس دوران ہر وقت ان کی جان خطرے میں گِھری رہتی ہے۔

default

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے بچوں سے مزدوری لینے کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے۔ اقوام متحدہ سے منسلک اس ادارے کے مطابق بچے اور نوجوان لڑکے لڑکیاں کان کنی، دھات کے کام، کاشتکاری اور جوتا سازی سے لے کر ہر قسم کی بڑے صنعتوں میں کام کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق بہت سے ممالک میں قوانین پر مناسب عملدرآمد نہ ہونے کے سبب بچوں سے مزدوری لینا آسان اور انہیں بلاخوف و خطر ہر قسم کے احکام ماننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ نکات بچوں سے جبری مشقت کروانے کے بڑے اسباب کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔ آئی ایل او کے مطابق ان بچوں کی نمایاں اکثریت انتہائی غربت سے مجبور ہوکر ذہنی و جسمانی طور پر خطرناک نوکریاں کرنے پر تیار ہوجاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کام کے دوران ان بچوں کی بڑی تعداد کا ایسی زہر آلود اشیاء سے بھی واسطہ پڑتا ہے، جس کے منفی اثرات لمبے عرصے بعد سامنے آتے ہیں۔

Kinderarbeit in Ägypten

12 جون بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انٹرنیشل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 18 سال سے کم عمر افراد کا شمار بچوں کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جان کو لاحق خطرات میں گِھرے کام کرنے والے بچوں کی اکثریت کا تعلق افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے ہے۔

متاثرہ ممالک میں شعور بیدار کرنے کی مہم کے نتیجے میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران یہ مثبت پہلو سامنے آیا ہے کہ پانچ سال تک کی عمر کے بچوں سے محنت و مشقت کروانے کی سطح میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس اسی عرصے میں 15 سے 17 سال تک کے بچوں سے مزدوری کروانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ ان بچوں میں 60 فیصد لڑکے جبکہ بقیہ لڑکیاں ہیں۔

بچوں سے محنت و مشقت کروانے کی مناسبت سے ایشیاء سر فہرست براعظم ہے جس کے بعد افریقہ اور پھر لاطینی امریکہ کا نمبر آتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس