1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کروشیا میں صدارتی انتخابات

کروشیا میں صدارتی الیکشن، اس کے یورپی یونین میں شمولیت کے لئے اہم خیال کئے جارہے ہیں۔ کروشیا کو ملک کے اندر پائی جانے والی کرپشن کو کنٹرول کرنے کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔

default

کروشیا کے مقبول صدارتی امیدوا کا انتخابی بینرر

جمہوریہ کروشیا یورپ کے وسط اور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اِس ملک میں اتوار کو صدارتی الیکشن کا انعقاد ہو رہا ہے۔ اتوار کے صدارتی الیکشن کو بظاہر پہلا راؤنڈ خیال کیا جا رہا ہے۔ کسی امیدوار کو مطلوبہ پچاس فی صد ووٹ حاصول نہ ہونے کی صورت میں ٹاپ کے دو امیدواروں کے درمیان انتخاب کا دوسرا مرحلہ دس جنوری کو ہو گا۔

اپوزیشن امیدوار Ivo Josipovic نے اپنی انتخابی مہم میں ملک کے اندر سے کرپشن کے خاتمے کا نعرہ بلند کیا ہے جسے کروشیا کی یورپی یونین میں شمولیت کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ خیال کیا جاتا ہے۔ قانون کے پروفیسر اور مغربی موسیقی کےسروں سے گہرا شغف رکھنے والے سوشل ڈیموکریٹ لیڈر کو رائے عامہ کے جائزوں میں بقیہ امیدواروں پر واضح برتری حاصل ہے لیکن وہ مطلوبہ پچاس فی صد ووٹوں کے حصول سے قدرے دور دکھائی دیتے ہیں۔

Der Präsidentschaftskandidat Nadan Vidosevic

کروشیا کے ایک اور صدارتی امیدوار نادان ویدوسووچ

صدارتی انتخابی معرکے میں سوشل ڈیمو کریٹ امیدوار کو دارالحکومت زگرب کے مقبول میئر میلان بانڈچ کا سامنا ہو سکتا ہے یا حکمران قدامت پسند جماعت ZDH کے سابق رکن اور مالدار تاجر Nadan Vidosevic کا۔ انتخابی عمل کے لحاظ سے یہ امر اہم ہے کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے حال ہی میں زگرب کے میئر میلان بانڈچ کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ حکمران ZDH پارٹی کے امیدوار کو نامقبولیت کا سامنا ہے۔ حکمران جماعت نے سابق وزیرصحت Hebrang Andrija کو صدارتی الیکشن کے لئے امیدوار نامزد کیا ہے۔

کروشیا میں بڑھتی بے روزگاری اور معیار زندگی کے مسلسل گرنے نے حکمران جماعت کی مقبولیت کے گراف کو خاصل نیچا کردیا ہے۔ اِس باعث کروشیا کے اعتدال پسند دائیں بازو کے دھڑے کو بحرانی کیفیت کا سامنا ہے۔ اسی اندرونی خلفشار کے باعث دائیں بازو کے سیاسی حلقے ایک مضبوط سیاستدان کو میدان میں لانے سے قاصر رہے ہیں۔

Der Präsidentschaftskandidat Andrija Hebrang

کروشیا کی حکمران جماعت کے امیدوار، کامیابی کا امکان کم ہے

جو امیدوار بھی کامیاب ہو گا وہ دو بار صدر رہنے والے Stjepan Mesic کی جگہ فروری میں منصبِ صدارت سنبھالے گا۔ کروشیا میں صدر کے پاس اختیارات وزیر اعظم سے بہت کم ہیں لیکن وہ خارجہ امور، سلامتی اور دفاع کے معاملات پر اپنا اثر استعمال کر سکتا ہے۔ صدارتی اختیارات میں ویٹو کا اختیار بھی موجود نہیں ہے۔

یورپی ملک کروشیا نے سن انیس سو اکیانوے میں سابقہ یوگو سلاویہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد چار سال تک سیریبا کے خلاف جنگی صورت حال کا بھی سامنا کیا۔ کروشیا اقتصادی مشکلات سے بھی دوچار ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان