1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرم ایجنسی میں ریموٹ بم دھماکہ، چار فوجی ہلاک

پاکستانی فوج کی جانب سے جاری ہوئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں ریموٹ کنٹرول سے کیے گئے ایک بم حملے میں چار فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر کی جانب سے آج اتوار پندرہ اکتوبر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے،’’ دھماکے میں ایک افسر سمیت سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔‘‘

یہ دھماکہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں پیش آیا۔ کرم ایجنسی  پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام نیم خود مختار قبائلی علاقے یعنی فاٹا میں شامل سات ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ فاٹا کا یہ علاقہ افغان صوبے ننگر ہار کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے ریموٹ بم افغانستان کے ساتھ خارلاچی نامی بارڈر کراسنگ کے قریب نصب کیا تھا۔  یہ فوجی باز یاب کرائے گئے غیر ملکی خاندان کے استعمال کنندگان کی سرچ ٹیم کا ایک حصہ تھے۔

خیال رہے کہ پاکستانی آرمی اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مشترکہ کاروائی میں ان پانچ غیر ملکی مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا تھا، جنہیں 2012ء میں افغانستان میں اغوا کیا گیا تھا۔

بازیاب ہونے والی کیٹلان کولمن جن کا تعلق امریکی ریاست پینسلوینیا سے ہے، کو اُس کے کینیڈین شوہر جوشوا بوئل کے ساتھ پانچ برس قبل افغانستان میں اغوا کر لیا گیا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں ان افراد کا مسلسل سراغ لگانے میں مصروف رہیں۔ ان کی ایک اطلاع کے بعد 11 اکتوبر 2017 کو پاکستانی فوج نے پانچ برسوں سے مغوی بنائے گئے ان افراد کو کرم ایجنسی کے راستے افغانستان منتقل کرنے سے قبل بازیاب کرا لیا تھا۔

 

DW.COM