1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغیزستان کی روس سے فوجی مدد کی درخواست

وسط ایشیائی ملک کرغیزستان کی عبوری حکومت نے فسادات پر قابو پانے میں بے بسی ظاہر کرتے ہوئے روس سے فوجی مدد طلب کرلی ہے۔

default

خاتون سربراہ مملکت روزا اُوتن باییوا کے بقول ملک کے جنوبی شہر اوش میں جاری نسلی خانہ جنگی قابو سے باہر ہوگئی ہے۔ اوش میں کرغیز اور ازبک نسل کے شہریوں کے درمیان جھڑپوں میں پچاس سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

اپریل میں سابق صدر کُرمان بیک باقییف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد یہ کرغیزستان میں ہونے والے خونریز ترین فسادات ہیں۔ عبوری حکومت، جو ملک کے اندر امریکی اور روسی فوجی اڈوں کی میزبانی بھی کررہی ہے، ان فسادات کو روکنے میں مکمل طور پر اپنی ناکامی کا اعتراف کرچکی ہے۔

حکومت کے مطابق وہ کرغیز نسل کے مسلح افراد کے ہاتھوں ازبک نسل کے شہریوں پر حملوں اور ان کی املاک کو نظر آتش کئے جانے کے واقعات کو نہیں روک پارہی۔

NO FLASH Rosa Otunbajewa

روزا اُوتن باییوا

خاتون سربراہ حکومت Roza Otunbayeva نے بشکیک میں صحافیوں کو بتایا:’’ صورتحال پر قابو پانے کے لئے ہمیں بیرونی مسلح افواج کی مدد درکار ہے، ہم نے روس سے مدد طلب کرلی ہے اور روسی صدر دیمیتری میدویدیف کو ایک خط بھی لکھا جاچکا ہے۔‘‘

اس سے قبل روس کے سرکای خبر رساں ادارے کی جانب سے کہا گیا تھا کہ روسی وزیر اعظم ولادی میر پوتن نے کرغیز سربراہ حکومت سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

کرغیزستان کی موجودہ صورتحال سے امریکہ، چین اور روس جیسی عالمی طاقتوں کو بھی خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ روس اور چین اس پسماندہ سابق سوویت ریاست کے پڑوسی ہیں جبکہ امریکہ اوش کے شمال میں قائم اپنے فوجی اڈے سے افغانستان متعین افواج کو کمک فراہم کرتا ہے۔

اوش میں موجود نامہ نگاروں کے مطابق جمعے اور ہفتے کے درمیان شب بھر گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، بیشتر علاقوں میں بجلی اور گیس کی فراہمی بھی منقطع رہی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان Rakhmatillo Akhmedov کے مطابق پورے کے پورے محلوں کو آگ لگادی گئی ہے اور صورتحال قابو میں آنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ بتایا جارہا ہے کہ ازبک نسل کے شہری اوش سے جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ازبک اکثریت کے پڑوسی شہر مرہمت میں ان لوگوں کے لئے امدادی کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔

Kirgisistan Unruhen

وزارت داخلہ کے مطابق پورے کے پورے محلوں کو آگ لگادی گئی ہے

ازبکستان کی سرحد سے ملحق اس علاقے میں موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ کرغیز اور ازبک آبادی کے درمیان عرصے سے چلی آ رہی چپقلش ہے۔ 1990ء میں سوویت تسلط کے دور میں بھی ان دونوں لسانی اکائیوں کے درمیان اوش میں اسی نوعیت کے فسادات رونما ہوئے تھے جو سینکڑوں ہلاکتوں کا سبب بنے تھے۔

کرغیزستان میں سابق صدر کرمان بیک باقییف کی معزولی کے بعد سے ابھرنے والا سیاسی بحران بھی تاحال ختم نہیں ہوا۔ عبوری حکومت رواں ماہ کے اواخر میں آئینی اصلاحات سے متعلق عوامی ریفرینڈم کی تیاریوں میں مصروف ہے تاہم اوش کی بگڑتی صورتحال نے اس کی مشکلوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM