1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغیزستان: نسلی فسادات، کم ازکم 46 ہلاک

وسطی ایشیائی ریاست کرغیزستان میں باقیوف حکومت کی تبدیلی کے بعد سے انتشار پایا جاتا ہے۔ اب جنوبی شہر اوش کے فسادات سے صورت حال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ اوش میں درجنوں ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

default

کرغزستان: ایک سابقہ نسلی احتتجاج کے شرکاء: فائا فوٹو

کرغیزستان کے جنوبی شہر اوش کو سابق صدر کرمان بیگ باقیوف اور ان کے حامیوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اپریل میں حکومت مخالف تحریک کے بعد وہ اسی شہر کے نواح میں روپوش ہوئے تھے۔ تب سے اوش اور گردو نواح میں صورت حال تناؤ کا شکار بتائی جاتی ہے۔ اب مسلح رضا کاروں کی ملیشیا اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپوں سے سارے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ تنازعے کی بنیادی وجہ اکثریتی کرغیز اور اقلیتی ازبک آبادی کے درمیان عرصے سے چلی آ رہی چپقلش ہے۔ ایسے اکا دکا فسادات مئی میں بھی رونما ہو چکے ہیں۔ تازہ فساد کا آغاز ایک جوا خانے میں جھگڑے سے ہوا، جو فساد کا روپ اختیار کرتے ہوئے سارے شہر میں بھیل گیا۔

Ausschreitungen in Kirgisien

کرغزستان: حکومت مخالف ایک سابقہ تحریک : فائل فوٹو

مسلح افراد نے ازبک آبادی کے علاقے میں گھروں کو آگ لگانے کے علاوہ کئی عمارتوں سمیت سینکڑوں گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ اس نسلی فساد کی لہر میں ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ کم از کم 46 افراد کی ہلاکت اور چھ سو سینتیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ انتہائی کشیدہ صورت حال کے تناظر میں عبوری حکومت نے اوش شہر اور نواح میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا ہے۔ شہر کی کشیدگی کو کرفیو کی پابندی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تناؤ کے شکار شہر اوش میں فوج کی گشت کرتی گاڑیوں کو فضا میں پرواز کرتے ہیلی کاپٹروں کی معاونت بھی حاصل ہے۔

دارالحکومت بشکیک میں بھی ہزاروں کرغیز باشندوں نے اوش کے شہریوں کےساتھ یک جہتی اور ازبک لوگوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ مظاہرین سارا دن کئی

Karte Kirgisistan mit Bischkek und Osch ENGLISCH

کرغزستان کا نقشہ اور جنوبی شہر اوش کا محل وقوع

گاڑیوں اور بسوں کو چھین کر ان کے ذریعے اوش شہر جانے کی کوششیں کرتے رہے۔ دوسرے شہروں کے مظاہرین سے بھری کچھ گاڑیاں اوش تک پہنچ بھی گئی ہیں۔ بشکیک میں بھی مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اوش شہر جانے والے دوسرے کرغیز باشندوں کی کوششوں پر عبوری حکومت کی سربراہ روزا اوتن بائیوا نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے تمام فریقین کو پرامن رہنے اور قانون کا احترام کرنے کی تلقین کی ہے۔ روس اور چین کی جانب سے بھی مظاہرین کو قانونی اور حکومتی احکامات کی پاسداری اور پر امن رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ کرغیزستان کی تازہ صورت حال کا ذکر شنگھائی تعاون تنظیم SCO کے ایجنڈے پر فوقیت حاصل کر گیا ہے۔ چین کے صدر ہُو جن تاؤ نے بشکیک حکومت کے لئے ہر ممکن تعاون کا اعلان کیا ہے۔ اسی تنظیم کے فورم پر ازبکستان کے صدر اسلام کریموف نے کہا کہ موجودہ صورت حال کرغیزستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن وہ ضرورت پڑنے پر بشکیک حکومت کی مدد کے لئے تیار ہیں۔ کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں قائم امریکی سفارت خانے نے بھی صورت حال اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یورپ کی سکیورٹی اور تعاون کی تنظیم OSCE نے بھی پرتشدد مظاہرین سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM