1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغیزستان میں شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

وسط ایشیائی ریاست کرغیزستان میں فسادات کا سلسلہ ملک کے جنوبی علاقوں میں پھیلتا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی ہے جن میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے۔

default

 کرغیزستان کی حکومت نے جنوبی شہر اوش اور جلال آباد میں ہنگامی حالت نافذ کرکے سیکورٹی فورسز کو شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کردئے ہیں۔

نگراں سربراہ حکومت روزا اوتن باییوا نے گزشہ روز روس سے فوجی مدد کی درخواست کی تھی مگر ماسکو نے ایسا کرنے سے معذرت ظاہر کی۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے نسلی نوعیت کے ان فسادات پر قابو پانے کے مطالبات میں شدت دیکھی جارہی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اوش شہر میں ایک پاکستانی طالب علم کی ہلاکت اور15 دیگر کو یر غمال بنا ئے جانے کی تصدیق کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق اس وسط ایشیائی ریاست میں لگ بھگ 1200 پاکستانی طالب علم درس وتدریس میں مصروف ہیں۔

پاکستان کے جنوبی شہر جیکب آباد کے ایک رہائشی عبید انصاری کے مطابق اسے اوش سے ٹیلی فون پر اطلاع ملی ہے کہ اس کے ایک ساتھی کو مار دیا گیا، 15 کو یرغمال بنایا گیا ہے جبکہ باقی تہہ خانوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔

کرغیز اور ازبک نسل کے شہریوں کے درمیان ان خونریز جھڑپوں کا آغاز جمعرات کو ہوا تھا۔ ہلال احمر کی بین الاقوامی کمیٹی نے علاقے میں انسانی بحران کے خطرے سے خبردار کیا ہے ۔

Unruhen in Kirgisistan Flash-Galerie

اوش سے نقل مکانی کرنے والے ازبک نسل کے شہری

عینی شاہدین کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے دستے مکمل طور پر ناکام ہیں، اوش شہر میں مسلح افراد دندناتے پھر رہے ہیں اور  نعشیں سڑکوں پر پڑی ہیں۔ ازبکستان کی سرحد سے ملحق اس علاقے میں موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ کرغیز اور ازبک آبادی کے درمیان عرصے سے چلی آ رہی چپقلش ہے۔ 1990ء میں سوویت تسلط کے دور میں بھی ان دونوں لسانی اکائیوں کے درمیان اوش میں اسی نوعیت کے فسادات رونما ہوئے تھے جو سینکڑوں ہلاکتوں کا سبب بنے تھے۔

فلاحی رضا کار تنظیموں نے متاثرہ علاقوں میں ازبک نسل کی اقلیت کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کرغیزستان کے پڑوسی ملک ازبکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو جگہ فراہم کرے۔ اطلاعات ہیں کہ لگ بھگ پانچ ہزار ازبک شہری اوش سے ازبکستان فرار ہونے کی کوشش میں سرحد کے پاس پہنچے ہیں۔

رپورٹ :  شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM