1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغز حکومت نسلی فسادات کی تحقیقات پر آمادہ

کرغزستان کی عبوری حکومت نے امریکہ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ خون ریز نسلی فسادات کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات کروائے گی۔

default

دریں اثناء ملک کے شورش زدہ جنوبی علاقوں میں مزید فسادات بھڑکنے کے پیش نظر وہاں نافذ کی گئی ایمرجنسی کی مدت میں توسیع کردی گئی ہے۔ کرغزحکام اور امدادی تنطیموں کے مطابق کرغز اور ازبک قبائل کے مابین پر تشدد فسادات کے نتیجے میں کم ازکم دو ہزارافراد ہلاک جبکہ ایک ملین سے زائد شدید متاثرہوئے ہیں۔ اطلاعات کےمطابق تقریبا تین لاکھ افراد کرغزستان میں ہی مہاجرت پر مجبور ہوئے جبکہ کوئی ایک لاکھ افراد ہمسایہ ملک ازبکستان کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔

Unruhen in Kirgisistan

اقوام متحدہ نے بھی متاثرین کی امداد کے لئے اپیل جاری کی ہے

ہفتہ کے دن کرغز عبوری حکومت نے اعلان کیا کہ وہ جنوبی شہر اوش اوردیگرعلاقوں میں 25 جون تک ایمرجسنی کا نفاذ جاری رکھے گی۔ خون ریز فسادات کے بعد ان شدید متاثرہ علاقوں میں گیارہ جون کو ہنگامی حالت نافذ کی گئی تھی۔

کرغزحکام سے ملاقات کے بعد جنوب وسطی ایشائی ممالک کے خصوصی امریکی مندوب رابرٹ بلیک نے کہا کہ بشکیک حکومت نے ان فسادات کے بارے میں تحقیقات کے لئے رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔

Unruhen in Kirgisistan

ان فسادات کے باعث لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں

بشکیک کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلیک نے کہا: ’’ عبوری حکومت نےمجھے یقین دلایا ہے کہ وہ ان فسادات کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کی ایک با اعتماد ٹیم بعد ازاں ان تحقیقات کی جانچ پڑتال کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسے فسادات دوبارہ وقوع پذیر نہ ہوں۔

رابرٹ بلیک نے کہا کہ عبوری حکومت کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ ملکی اورغیرملکی سطح پر مہاجرت اختیار کرنے والے چارلاکھ افراد کی گھر واپسی کے لئے ایک ساز گارماحول پیدا کرے۔

رابرٹ بلیک نے کرغز عبوری صدر روزا اوتُنبائیوا سے ملاقات کے دوران کہا کہ واشنگٹن حکومت بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے گھروں میں محفوظ واپسی کے لئے بشکیک حکومت کی بھرپور مدد کرے گی۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM