1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغزستان کا سیاسی بحران

پانچ سال قبل رونما ہونے والے ٹیولپ انقلاب کو ایک اور عوامی تحریک نے اپنے قدموں تلے روند ڈالا ہے۔ سن 2005میں عسکر آکایف کی حکومت کو ختم کرنے والے کُرمان بیک باقییف حکمرانی کے حوالے سے اب خود بھی قصہٴ پارینہ بن چکے ہیں۔

default

وسطی ایشیا کے ملک اورسابقہ سوویت یونین کی آزاد ہونے والی جمہوریہ کرغزستان میں عوامی انقلاب کے بعد بننے والی عبوری حکومت نے سیاسی اور انتظامی معاملات پر اپنا پورا کنٹرول ظاہر کرنا شروع کردیا ہے۔ دارالحکومت بشکیک سے فرار اختیار کرنے کے بعد جنوبی حصے میں روپوش ہونے والے معزول صدر کُرمان بیک باقییف اب مستعفی ہونے کے ساتھ ساتھ ملک چھوڑنے پر بھی تیار ہو گئے ہیں لیکن عبوری حکومت کی سربراہ Roza Otunbayeva نے روپوش صدر پر واضح کردیا ہے کہ وہ عدالتی کٹہرے میں لائے جائیں گے کیونکہ اُن کے ہاتھ نہتے شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ عبوری حکومت کی سربراہ اور سابق وزیر خارجہ Roza Otunbayeva نے اِن خیالات کا اظہار بشکیک میں امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک سے ملاقات کے بعد کیا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ کرمان بیک باقییف نے عام شہریوں کا خون بہا کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

Kirgisistan Rücktritt Bakijew Bakijew

جلال آباد، جنوبی کرغزستان: معزول صدر کرمان بیگ باقییف اپنے حامیوں کے درمیان

کرمان بیک باقییف کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ جنوبی کرغزستان میں اپنے آبائی قصبے جلال آباد میں اپنے حامیوں کو اکھٹا کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے منگل کو مستعفی ہونے کا اشارہ بھی دیا تھا۔

سات اپریل کی عوامی تحریک کے بعد کرغزستان کا دورہ کرنے والے رابرٹ بلیک، امریکہ کے اعلیٰ حکام میں سے ہیں۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے کرغزستان کی عبوری حکومت کی سربراہ سے گزشتہ روز ملاقات کی اور امریکہ کی جانب سے ہر ممکن حمایت اور مدد کا یقین دلایا۔ بلیک کے مطابق وہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی ہدایات پر بشکیک پہنچے ہیں۔ انہوں نے عبوری حکومت کی جانب سے اب تک اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی ہے۔

کرغزستان امریکہ کے لئے اہم ملک ہے اور اس کی ایک وجہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کے لئے یہ متبادل سپلائی روٹ ہے۔ سات اپریل سے قبل کے مظاہروں کی وجہ سے امریکی طیاروں کی پروازوں کا شیڈیول معطل کردیا گیا تھا۔ دارالحکومت بشکیک کے قریب ماناس ایئر بیس کو امریکہ نے

Kirgistan Kirgisien Rosa Otunbajewa in Bischkek

عبوری حکومت کی سربراہ

پانچ سال کے لئےلیز پر لیا ہوا ہے۔ عبوری حکومت نے ماناس ایئر بیس کے معاہدے کا احترام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

سات اپریل کے مظاہروں میں حکومتی کارروائی کے نتیجے میں کم از کم 80 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔ مظاہرین حکومت کی ناقص کارکردگی، کرپشن اور لاقانونیت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جو انجام کار حکومت کی تبدیلی کا باعث بنا۔

دوسری جانب روس کے صدر دیمتری میدویدیف نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک کی تقریب میں کرغزستان کی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ حالات پر نگاہ رکھے کیونکہ وہاں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں جو سارے خطے کے لئے عدم استحکام کا باعث ہو سکتے ہیں۔ روسی صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرغزستان وسطی ایشیا میں دوسرا افغانستان بننے کے راستے پر چل رہا ہے۔ بشکیک میں مبصرین کا خیال ہے کہ کرغزستان میں حالات سنگین اور تناؤ کا شکار ضرور ہیں لیکن خانہ جنگی کی صورت حال ہر گز موجود نہیں ہے۔

کامیاب عوامی تحریک کے بعد معرض وجود میں آنے والی عبوری حکومت نے چھ ماہ کے اندر اندر عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM