1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغزستان میں صدارتی انتخابات

وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان میں صدارتی الیکشن کے سلسلے میں آج رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ کل سولہ امیدوار انتخابات میں شریک ہیں۔ تین امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ کی توقع تھی۔

default

وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان میں آج صدارتی الیکشن کے سلسلے میں عوام نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ دارالحکومت بشکیک میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ صدارتی انتخابات سے ملک میں جمہوریت کو فروغ ملنے کے علاوہ طبقاتی اور نسلی اعتبار سے منقسم ملک میں اتفاق و یگانگت پھل پھول سکے گی۔ انتخابات سے قبل عوام نے اصلاحاتی ریفرنڈم میں بھی بھرپور شرکت کی تھی۔ صدارتی الیکشن کی شفاف تکمیل کے بعد انتقال اقتدار کی پرامن منتقلی ممکن ہو سکے گی۔ عوام کو یقین ہے کہ وزیر اعظم اتم بائیف صدر منتخب ہونے کے بعد بھی اپنے اصلاحاتی پلان کے نفاذ کے سلسلے میں کوششیں جاری رکھیں گے۔ بشکیک اور دوسرے شہروں میں ووٹنگ میں بھاری عوامی شرکت دیکھی گئی ہے۔

Kombibild Otunbajewa und Atambajew

کرغزستان کی صدر روزا اتن بائیف اور وزیر اعظم الماس بیگ اتم بائیف

روس اور امریکہ کے علاوہ یورپی مبصرین نےبھی ان انتخابات کے لیے ہونے والی پولنگ کو انتہائی باریکی سے مانیٹر کیا۔ کل سولہ امیدوار صدارتی الیکشن میں شریک ہیں۔ ان میں ادا خان مادموروف (Adakhan Madumaro) سابقہ قومی بیلئرڈ کے چیمپئن ہیں اور دوسرے معروف باکسر کامیش بیگ تاشی ائیف (Kamchibek Tashiyev) ہیں۔ ان دونوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی مبصرین کے مطابق الیکشن میں شریک امیدواروں کی جانب سے ایک مربوط اور مضبوط منشور پیش کیا گیا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدارتی الیکشن میں مقبول لیڈر اور عبوری حکومت کے وزیر اعظم الماس بیگ اتم با ئیف کو کامیابی مل سکتی ہے۔ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے وزارت عظمیٰ کے منصب سے الماس بیگ اتم بائیف نے 23 ستمبر کو استعفیٰ دیا تھا۔ان کو دو قوم پرست امیدواروں ادا خان مادموروف اور کامیش بیگ تاشی ائیف سے خاصے سخت مقابلے کی توقع ہے۔ روس بھی اتم بائیف کی حمایت کر رہا ہے۔ وہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیرمین بھی ہیں۔ سن 2000 کا صدارتی الیکشن وہ ہارگئے تھے۔ ان کے مخلوط سیاسی اتحاد کو سن 2010 کے پارلیمانی الیکشن میں کامیابی حاصل ہونے پر ہی وہ وزیر اعظم بنے تھے۔

Der ehemalige kirgisische Ministerpräsident Almasbek Atambajew

کرغزصدارتی الیکشن میں الماس بیگ تم بائیف کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں

سن 2010 سے کرغزستان میں کامیاب عوامی تحریک کے بعد سے عبوری صدر روزا اوتن بائیف ملکی نظم و نسق سنبھالے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال دستوری اصلاحات کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان اصلاحات کے تحت صدر کے اختیارات میں کمی اور پارلیمنٹ کو فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہو چکا ہے۔ صدر کے عہدے کی مدت چھ سال رکھی گئی ہے۔

کرغزستان کے عوام آزادی کے بعد بیس سالوں سے مطلق العنان حکمرانوں کو برداشت کر رہے تھے۔ گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں قربان بیگ باقی ائیف کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے کرغزستان میں عبوری حکومت قائم ہے۔ مہنگائی سے عوام کی کمر دوہری ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ شمال اور جنوب کی نسلی اور ثقافتی تقسیم کا چیلنج بھی نئے صدر کے سامنے ہو گا۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس