1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغزستان میں ریفرنڈم، خدشات کے سائے میں

نسلی فسادات کے بعد بہت سے خدشات اور دھمکیوں کے سائے میں کرغزستان کے عوام نے آئینی اصلاحات کے حوالے سے منعقدکئے گئے ایک ریفرنڈم میں آج اتوار کے روز اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

default

کرغزستان میں ریفرنڈم کے موقع پر سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کئے گئے۔ اس مقصد کے لئے ہزاروں پولیس اہلکاروں کو ملک بھر میں خصوصا اوش شہر سمیت دیگر شورش زدہ علاقوں میں تعینات کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق خدشات کے برعکس آج اس ریفرنڈم میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والوں کی تعداد خاصی زیادہ رہی۔ الیکشن کمیٹی کے مطابق سہ پہر تک ملک بھر میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ 26 اعشاریہ تین فیصد تک رہا۔

Unruhen in Kirgisistan

حالیہ فسادات میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے

میڈیا رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ عبوری حکومت کے رہنما عمر بیک تیکبائیف کے بیان کے باعث ملک میں اس ریفرنڈم کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات میں کمی ہوئی۔ انہوں نے آج اپنے ایک بیان میں ریفرنڈم کے حوالے سے پائے جانے والے تمام تر خدشات کو رد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا : ’’یہ کہنا سراسر غلط اندازوں پر مبنی ہے کہ کرغزستان میں خانہ جنگی جاری ہے اور یہ ملک ٹوٹ جائے گا۔‘‘

کرغزستان میں اس ریفرنڈم کے بعد حکومت، نئے آئین کی تیاری کی خواہاں ہے۔ عبوری حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک سے صدارتی نظام ختم کر کے اسے پارلیمانی جمہوریہ بنایا جائے۔ تیکبائیف کے مطابق یہ ریفرنڈم دنیا کو ایک نئے کرغزستان سے متعارف کروائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نسلی فسادات کی بنیادی وجہ وہ قوتیں تھیں، جو کرغزستان کو پارلیمانی جمہوریہ بننے سے روکنا چاہتی ہیں۔

Kirgisistan Usbekistan Wahlen Rosa Otunbajewa

عبوری حکومت کی سربراہ نے ریفرنڈم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے

عبوری حکومت کی سربراہ Roza Otunbayeva نے فسادات کے شکار شہر اوش میں اپنا ووٹ ڈالا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا : ’’ہم دنیا کو دکھا دیں گے کہ کرغزستان متحد ہے۔ ہمیں اپنے ان زخموں پر مرہم رکھنی ہے، جو گزشتہ دنوں کے خونریز واقعات کے باعث ہمیں لگے۔‘‘

ریفرنڈم کا آغاز آج صبح ہوا اور اس سلسلے میں پولنگ بغیر کسی وقفے کے مقامی وقت کے مطابق شب آٹھ بجے تک جاری رہی۔ ریفرنڈم کے باعث گزشتہ روز اوش شہر میں عارضی طور پر کرفیو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان کل پیر کے روز متوقع ہے۔

کرغزستان میں حالیہ نسلی فسادات میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریبا دو ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ کرغز اکثریت اور ازبک اقلیت کے درمیان ہونے والے اس خونریز تصادم کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ایسے حالات میں کرغزستان کی عبوری حکومت کی جانب سے آئین میں اصلاحات کے لئے ریفرنڈم کے اعلان پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تشویش ظاہر کی جا رہی تھی۔ تاہم عبوری حکومت نے ریفرنڈم کے التواء کے حوالے سے تمام تر مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مقررہ تاریخ پر یعنی اتوار کے روز ہی منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM