1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغزستان: عوامی تحریک کےبعد اپوزیشن حکومت میں

سابقہ سوویت جمہوریہ اور وسطی ایشیائی ملک کرغزستان پرتشدد عوامی تحریک کے بعد اپوزیشن نے دارالحکومت بشکیک کے اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر سابق وزیر خارجہ کا نام سامنے آیا ہے۔

default

وسطی ایشیائی ملک کرغزستان میں کئی دنوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اپوزیشن کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ حکومت نے ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت پر اب تقریباً اپوزیشن کا کنٹرول ہے۔ سابق وزیر خارجہ Roza Otunbayeva کو نیا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ اِس کا اعلان سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کردیا گیا ہے۔ نئی خاتون لیڈر نے سرکاری ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن دارالحکومت بشکیک کی اندرونی سیکیورٹی صورت حال تاحال پوری طرح واضح نہیں ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت پر اپوزیش کے قبضے کی اطلاعات پہلے ہی آ چکی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اول نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو مظاہرین کی مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑا ۔ وزیر داخلہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ ریاستی صدر کے خلاف نعرے لگائیں۔

ملکی دارالحکومت میں کم از کم چالیس افراد حکومتی کارروائی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ وزارت صحت نے بھی اتنی ہی ہلاکتوں اور 400 کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق مرنے والوں کی یہ تعداد حکومت نے بتائی ہے جبکہ

Zentras - Kirgisien Parlamentswahlen

کرغزستان کے صدر قربان بیگ باقی یف ووٹ ڈالتے ہوئے: فائل فوٹو

ہلاکتوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اپوزیشن سیاستدانوں نے کہا کہ صرف بدھ کو ہلاک ہونے والوں کی مبینہ تعداد ایک سو بتائی جاتی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں نے بتایا ہے کہ حکومت کی حامی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں برسائیں۔

دارالحکومت بشکیک کے مرکز میں بدھ کو رات گئے تک ہزاروں مظاہرین موجود تھے۔ کئی دوسرے شہروں سے بھی نوجوان سیاسی کارکن جوق در جوق بشکیک پہنچ رہے ہیں۔ متعدد شہروں سے حکومت مخالف مظاہروں کی رپورٹیں ملی ہیں۔ قاذخستان کی جانب سے فریقین

Oppositionspolitikerin Rosa Otunbajewa

بشکیک: نئی عبوری حکومت کی سربراہ: فائل فوٹو

کے درمیان مذاکرات کی پیش کش سامنے آئی ہے لیکن مبصرین کے مطابق کرغزستان میں حکومت مخالف مظاہروں میں کمی کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔

اپوزیشن کے ایک لیڈر تعمیر سریف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم دانیار اوسینوف نے اپنے استعفے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اپوزیشن کے مطابق کرغزستان کے صدر نے سرکاری رہائش گاہ چھوڑتے ہوئے ملکی دارالحکومت کو بھی خیر باد کہہ دیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جنوبی شہر اوش چلے گئے ہیں۔ سن 2005 میں قربان بیگ باقی ئیف ایک عوامی تحریک کے بعد روس کے حمایتی صدر عسکر اکایف کو منصب صدارت سے فارغ کرنے کے بعد صدر بنے تھے۔

جملہ صورت حال کے بارے میں سردست کچھ بھی مثبت اور وضاحت سے سامنے نہیں آ رہا۔ ملک کے تمام شہر افواہوں کی زد میں ہیں۔ بیرون ملک سے جو بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں، وہ اپوزیشن کی مہیا کردہ ہیں۔

کرغزستان میں لوگ غربت کے ہاتھوں تنگ آ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت میں کرپشن اور رشوت ستانی کا بھی انتہائی زور ہے۔ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ کرغزستان کی اقتصادیات کا دارومدار روس میں کام کرنے والے کرغز تارکین وطن پر تھا، لیکن عالمی کساد بازاری کی وجہ سے روس سے مالی رقوم کی ترسیل میں بھی انتہائی حد تک کمی ہو چکی ہے۔

رپورٹ: عابد حسینادارت: مقبول ملک