1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرغزستان سے پاکستانی طلبہ کی واپسی کی کوششیں

کرغزستان کے شہر اوش میں پھنسے ہوئے پاکستان طلبہ و طالبات کی درست تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ البتہ دفتر خارجہ کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ فسادات والے علاقوں میں 269 پاکستانی محصور ہیں۔

default

ترجمان کے مطابق ان میں سے 30 پاکستانی طالب علم اوش ایئرپورٹ کے قریب محفوظ مقام پر موجود ہیں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا بھی کہنا ہے کہ وہ پاکستانی طلباء کی بحفاظت پاکستان واپسی کےلئے مسلسل کرغزستان حکومت سے رابطے میں ہیں اور ان کے بقول طلباء کی محفوظ وطن واپسی کےلئے پاک فضائیہ کا خصوصی طیارہ آج یعنی پیر کے روز اوش بھیجا جائے گا۔شاہ محمود قریشی کے مطابق: ’’ہم نے باہمی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنا خصوصی طیارہ اوش میں بھیجیں، جو کہ امدادی سامان بھی لے کر جائے کیونکہ وہاں پر اشیائے خوردونوش کی سخت قلت ہے اور لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے اور واپسی پر پاکستانی طلباء کو بھی لے کر اسلام آباد آئے۔‘‘

Kirgisistan Kirgisien Khirgistan Kyrgyzstan Krankenhaus in Bishkek

ان فسادات میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں

دوسری جانب اوش میں نسلی فسادات کے دوران ہلاک ہونے والے انجینئرنگ فائنل ائیرکے طالب علم علی رضا کے اہل خانہ غم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک نواحی گاؤں کے رہائشی علی رضا کی بہن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارا بھائی شروع ہی سے بہت ذہین تھا اور گھر والوں نے اس سے بہت سی توقعات وابستہ کی ہوئی تھیں۔ والدین کو بہت شوق تھا کہ وہ انجینئر بنے لیکن تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی اس کو مار دیا گیا۔ حکومت سے ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ اب میرے بھائی کی لاش کو جلد از جلد ہمیں دے دیں۔‘‘

Kirgistan Kirgisien Unruhen in Osch

نسلی فسادات میں درجنوں مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق علی رضا کی میت کرغزستان میں پاکستانی سفارتخانے کے حوالے کر دی گئی ہے، جو خصوصی طیارے کے ذریعے وطن واپس لائی جائے گی۔ ادھر اوش میں نسلی فسادات کے دوران ہنگامی طور پر وطن واپس پہنچنے والے طلباء عبیداللہ انصاری اور ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ اوش یونیورسٹی میں 500 کے قریب پاکستانی طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ایاز سومرو نے پاکستان واپسی کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا:’’نومئی کو ہم گھومنے گئے تو معلوم ہوا کہ نسلی فسادات شروع ہیں، اس سنگین صورتحال کے باعث ہم کیپیٹل سٹی میں آ گئے اور وہاں سے ہنگامی طور پر ٹکٹیں لے کر خیریت سے واپس گھر پہنچے ہیں۔‘‘

کرغزستان میں محصور طلباء کے والدین حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ ان کے پیاروں کی محفوظ واپسی کےلئے بندوبست کرے۔ خیال رہے کہ ہر سال ہزاروں پاکستانی طلباء طب اور انجینئرنگ کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کےلئے وسط ایشیائی ریاستوں میں قائم یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں۔

رپورٹ : شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM