1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کرس گیل سے رابطے کی بہت کوشش کی، ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے دورے کے دوران واحد ٹوئنٹی ٹوئنٹی اور پہلے دو ایک روزہ میچوں میں کرس گیل کو ڈراپ کرنے سے قبل بہت کوشش کی گئی کہ ان سے رابطہ ہو جائے، لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔

default

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ WICB کے سربراہ ارنسٹ ہیلیئر کا یہ بیان کرس گیل کے اس شکوے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ویسٹ انڈیز کرکٹ کے اس سٹار بلے باز نے کہا تھا کہ انہیں ڈراپ کرنے سے قبل بورڈ نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ کرس گیل اس وقت انڈین پریمیئر لیگ IPL میں رائل چیلنجرز بنگلور کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے IPL کے اپنے پہلے میچ میں ہی دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے سو رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو کامیابی دلوائی، لیکن دوسری طرف ان کا اپنا ملک پاکستان کے خلاف کھیلی جا رہی پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پہلے دونوں میچ ہار گیا ہے۔

Cricinfo.com نامی ویب سائٹ نے ارنسٹ ہیلیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرس گیل کو غلط مشورہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بورڈ کو سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنا چاہیے اور انہیں ڈراپ کرنے سے پہلے تمام تر امور پر گفتگو کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کرس گیل کے فیصلے کو غلط قرار نہیں دے سکتے، کیونکہ گیل نے وہ کیا جو انہیں ٹھیک معلوم ہوا۔

Chris Gayle

ویسٹ انڈیز کے سٹار کھلاڑی کرس گیل

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے انکشاف کیا انہوں نے کرس گیل کو IPL کھیلنے کی اجازت دی تاکہ وہ پیسہ کما سکیں۔ ارنسٹ ہیلیئر نے کہا کہ کرس گیل انجری کا شکار تھے، اور اسی لیے انہیں پاکستان کے خلاف پہلے دو ون ڈے میچوں میں ڈراپ کیا گیا۔ ’لائن اینڈ لینتھ نیٹ ورک‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ گیل سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی فٹنس ثابت کریں تو انہیں ٹیم میں جگہ ضرور دی جائے گی لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا، ’ ہم نے گیل سے کہا کہ اگر وہ ٹیم سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں اور IPL کھیلنا چاہتے ہیں تو بتا دیں، ہم اجازت دے دیں گے، تو انہوں نے کہا کہ وہ دستیاب نہیں۔ اس کے بعد ہم نے انہیں IPL کھیلنے کے لیے اجازت نامہ جاری کر دیا‘۔

جمیکا سے تعلق رکھنے والے کرس گیل نے کہا تھا کہ بورڈ کے نامناسب رویے کی وجہ سے وہ IPL کھیلنے پر مجبور ہوئے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس