1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرسٹیان وولف: نئے جرمن صدر

کرسٹیان وولف کو کچھ عرصہ قبل جرمنی کا اگلا چانسلر بھی خیال کیا جاتا تھا۔ وہ سن 2003 سےجرمن صوبے لوئر سیکسنی کے وزیر اعلیٰ چلے آ رہے تھے۔

default

جرمنی میں صوبائی اور مرکزی پارلیمنٹ نے بدھ کو رائے شماری میں کرسٹیان وولف کو جرمنی کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ ان کا انتخاب تیسری بار شیڈیول کی جانے والی ووٹنگ میں ہوا۔ وہ جرمنی کے دوسری عالمی جنگ کے بعد منتخب ہونے والے دسویں صدر ہیں۔ ان کا پورا نام کرسٹیان ولہلم والٹر وولف ہے۔

وہ دو جولائی کو اپنے نئے منصب کا حلف اٹھائیں گے۔ ان کے منصب کی توثیق مخلوط حکومت کی تینوں سیاسی جماعتوں کے سربراہ تین جون کو کریں گے۔ صدر منتخب ہونے سے قبل وہ جرمنی کی بڑی سیاسی جماعت کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو کے چارڈپٹی لیڈروں میں سے ایک تھے۔ وولف جرمنی کے اندر مقبول سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

Christian Wulff

کرسٹیان وولف، سن2003ء کی ایک تصویر

کرسٹیان وولف بہت نوعمری میں سی ڈی یو میں شامل ہو گئے تھے۔ سن 1978ء سے وہ پارٹی کے لئے متحرک ہیں۔ وہ سکول سطح کی تنظیم میں بھی کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین کی نمائندگی کرتے تھے۔ سن 1984ء سے سی ڈی یو کی علاقائی کونسل کے رکن چلے آ رہے تھے۔ وہ 2003ء میں لوئر سیکسنی کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔

کرسٹیان وولف انیس جون سن 1959ء میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ جرمن شہر اوسنابروک کی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ وکیل اور عقیدۃً رومن کیتھولک ہیں۔ گزشتہ چالیس برسوں میں منتخب ہونے والے وہ واحد کیتھولک صدر ہیں۔ ان سے قبل ہائنریش لوبیکے رومن کیتھولک صدر تھے۔

وہ اعتدال پسند قدامت پسندوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ جرمن صوبے لوئر سیکسنی کے وزیر اعلیٰ تھے۔ یہی صوبہ جرمن کار ساز ادارے فولکس ویگن کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں بھی وہ فولکس ویگن ادارے کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے تھے۔

Christian Wulff Flash-Galerie

کرسٹیان وولف، سن1981ء کی ایک یادگار تصویر

بطور وزیر اعلیٰ وہ خاصے اختراع پسند تصور کئے جاتے تھے لیکن کیا وہ بطور صدر جرمنی کوئی کردار ادا کر سکیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وہ میرکل حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سےکسی پریشانی کا باعث نہیں بن سکیں گے۔ اپنے صوبے میں انہوں نے پہلی بار کسی ترک نژاد کو وزیر کا قلمدان سونپا تھا۔ اس پر ان کی پذیرائی ضرور ہوئی تھی لیکن ترک خاتون نے سکولوں اور کالجوں میں صلیب کے نشان پر پابندی کا بیان دے کر کرسچیئن ڈیموکریٹک پارٹی کی مخالفت مول لے لی تھی۔

کرسچیئن وولف نے دو بار شادی کی۔ پہلی بار انہوں نے اپنی کلاس فیلوسے سن 1988ء میں شادی کی جو سن 2006 ء میں طلاق پر ختم ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری شادی سن 2008 ء میں کی تھی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM