1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرسمس کے موقع پر پاپائے روم کا پیغام

دنیا کے کیتھولک عیسائیوں کے رہنما پوپ بینے ڈکٹ نے کرسمس کی مناسبت سے دنیا کے نام اپنے روائتی پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کو اپنی تمام تر علمی وصنعتی ترقی کے باوجود اب بھی ایک روحانی اور اخلاقی رہنما کی ضرورت ہے۔

default

آج دنیا بھر میں کرسمس کاتہوار مذہبی اور قومی جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ رات دنیا بھر کے کلیساؤں میں دعائیہ پروگراموں کا انعقاد ہوا۔ دنیا کے کیتھولک عیسائیوں کے رہنما پوپ بینے ڈکٹ نے کرسمس کی مناسبت سے دنیا کے نام اپنے روائتی پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کو اپنی تمام تر علمی وصنعتی ترقی کے باوجود اب بھی ایک روحانی اور اخلاقی رہنما کی ضرورت ہے۔

پوپ نے حضرت مسیح کی پیدائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا چاند اورمریخ پر جانے والے اور دنیا کواپنے قبضہ قدرت میں کرنے والے انسان کو اب بھی کسی نجات دھندہ کی ضرورت ہے؟ ایک ایسا انسان جو کائنات کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کے لئے کسی بھی قسم کی حدبندی کا قائل نہیں ہے اور انٹرنیٹ کے مجازی سمندر میں سفر کر رہا ہے؟

پاپائے روم کا کہنا تھا کہ دنیا تمام تر صنعتی ترقی اور صارفین کے مفادات کو فروغ دینے کی تحریک کے باوجود ابھی تک بھوک، غربت ، نسل پرستی ، مذہبی منافرت ، دہشت گردی اور ہر قسم کے تشدد کی مصیبت میں گرفتار انسان کو نجات نہیں دلا سکی ہے۔

انہوں نے کہا چونکہ آج زندگی پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے اور انسان کی انفرادی اور اخلاقی صداقت اور دیانت کو لاحق خطرات اور زیادہ سنجیدہ ہو چکے ہیں لہٰذا شائد آج کے انسان کو گزشتہ ہر دور سے زیادہ ایک نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔

پوپ بینے ڈیکٹ نے دنیا کے نام آج کے اپنے روائتی پیغام میں خاص طور پر مشرق وسطی میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور پائدار امن قائم کرنے کی پرزور اپیل کی۔ پوپ نے ساتھ ہی عراق میں خونریز جھڑپوں کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا میں ان تمام افراد سے جن کے ہاتھ میں عراق کا مستقبل ہے، اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس ملک میں تشدد کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

انہوں نے لبنان اور سری لنکا میں بھی اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔پوپ بینے ڈیکٹ نے گزشتہ رات اپنی دعائیہ تقریب میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ حضرت عیسی کے بچپن کا سخت دور ہمیں اُن تمام بچوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جنہیں دنیا بھر میں بھوک و افلاس اور خوف و ہراس کا سامنا ہے۔

حضرت عیسی کی جائے پیدائش بیت الحم میں بھی ہزاروں فلسطینی عیسائیوں نے خصوصی پروگرام میں شرکت کی اور بیت المقدس کے اسقف اعظم میشائل صباح نے فلسطینی اور اسرائیلی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ علاقے میں امن و صلح کے قیام کے لئے اپنی تمام تر قوت و طاقت استعمال کریں۔