1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کرسمس کے بسکٹ، عمر رسیدہ جرمن خواتین اور مسلمان تارکین وطن

اگرچہ ڈریسڈن شہر اسلام مخالف تنظیم پیگیڈا کے مظاہروں کے باعث خبروں کی زینت رہتا ہے۔ لیکن کچھ جرمن خواتین مسلمان ممالک سے آئی ہوئی مہاجر عورتوں اور بچوں کے ساتھ مل کر کرسمس کے لیے بسکٹ بنا رہی ہیں۔

سر پر رنگین اسکارف پہنے سولہ سالہ افغان مہاجر لیلیٰ شکوری کرسمس کے لیے تیار کیے جانے بسکٹوں کو بڑی احتیاط کے ساتھ رنگوں سے سجا رہی ہے۔ شکوری کہتی ہے، ’’میں کرسمس کے تہوار کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتی ہوں۔‘‘ شکوری چار ماہ پہلے اپنی ماں اور دو بہنوں کے ساتھ افغانستان سے ہجرت کر کے جرمنی پہنچی ہے۔

آج وہ جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں اپنی بہنوں اور اکہتر سالہ جرمن عورت، ہائڈی فرانزکے کے ساتھ بیٹھی بسکٹ تیار کر رہی ہے۔ اس نے فرانزکے سے پوچھا، ’’کیا یہ واقعی سچ ہے کہ لوگ کرسمس کے درخت کے نیچے تحائف رکھتے ہیں؟‘‘

جرمنی آنے والے مہاجرین کی اکثریت کا تعلق مسلمان ممالک سے ہے۔ ان میں سے اکثریت پہلی مرتبہ کسی مغربی ملک میں کرسمس کا تہوار دیکھ رہی ہے۔ اکہتر سالہ فرانزکے ان رضاکاروں میں سے ایک ہیں جو پناہ گزینوں کی مدد کرنے اور انہیں جرمن معاشرے میں ضم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ فرانزکے کہتی ہیں، ’’ہم انہیں اپنی رسوم و روایات اور اپنے تہواروں کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔ ہم انہیں یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم کرسمس کا تہوار کیسے مناتے ہیں۔‘‘

دوسری جانب اسی شہر میں اسلام مخالف شدت پسند تنظیم پیگیڈا بھی ہر پیر کے روز یورپ کے اسلامیائے جانے کے خلاف مظاہرے کا اہتمام کرتی ہے۔ پیگیڈا کے مظاہرے نہ صرف مہاجرین کے شیلٹر ہاؤسز پر حملوں میں اضافے اور اسلام کے خوف میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ منفرد فن تعمیر کے حامل رومانوی شہر ڈریسڈن کی سیاحت کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

فرانزکے ہزاروں دیگر لوگوں کے ہمراہ پیگیڈا کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بھی شرکت کرتی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے، ’’صرف پیگیڈا کے خلاف مظاہرے کرنا کافی نہیں ہے، ہمیں اس سے بڑھ کر کچھ کرنا چاہیے۔‘‘

عراق سے آئی ہوئی نوجوان خاتون بھی اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ یہاں بسکٹ بنانے آئی ہوئی ہے۔ فرانزکے اسے ایک پمفلٹ دکھا رہی ہے۔ ’’یہ کرسمس کا درخت ہے اور یہ سانٹا کلاز ہے‘‘، فرانزکے اسے بتاتی ہے۔ لیکن اسے نہ جرمن آتی ہے اور نہ ہی وہ انگریزی سمجھ سکتی ہے۔ لیلیٰ شکوری اپنے موبائل کی مدد سے عربی میں ترجمہ کر کے اسے سمجھا رہی ہے۔ جرمن خواتین نے کرسمس کا گانا گانا شروع کیا تو ہاجر نامی چار سالہ عراقی بچی بھی ان کے ساتھ گنگنانے کی کوشش کرنے لگی۔

جرمن انٹر کلچرل کونسل کے چیئر مین یؤرگن مِکش کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر کرسمس کا تہوار منانا بہت خوش آیند ہے۔ مِکش کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسلمانوں کے عقیدے میں بھی اہم پیغمبر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ان کے یوم ولادت کو ویسے نہیں مناتے جیسے ہم مناتے ہیں۔

مشترکہ طور پر بسکٹ تیار کرنے کی اس تقریب میں ایک پینسٹھ سالہ جرمن خاتون آنگرمن بھی شامل ہیں۔ وہ ایک کم گو خاتون ہیں، لیکن حتمی انداز میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’یہ لوگ تو بالکل ہم ہی جیسے ہیں۔‘‘

DW.COM