1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کرسمس کی خوشیاں اور جوش و خروش پاکستان میں بھی

دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح آج پاکستان میں بھی کرسمس کا مسیحی تہوار پورے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مسیحی برادری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بعض تنظیموں نے بھی تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔

default

کرسمس کے موقع پر پاکستان بھر میں گرجا گھروں کو خصوصی طور پر سجایا گیا ہے۔ اس سے پہلے کرسمس بازاروں میں بھی کافی رش دیکھنے میں آیا۔ اس مسیحی مذہبی تہوار کے موقع پر روایتی کرسمس کیک اور پھول خریدنے اور تحائف کے تبادلے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گرجا گھروں میں خصوصی عبادات اور دعاؤں کا سلسلہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ہی شروع ہو گیا تھا۔

مسیحی برادری کے ارکان کے ساتھ ساتھ حکومتی اور غیر سرکاری سطح پر بھی کرسمس کیک کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی، سینیٹ کے چیئرمین فاروق ایچ نائک اور پنجاب کے گورنر اور وزیر اعلیٰ بھی کرسمس کی تقریبات میں شرکت کر چکے ہیں۔

پاکستان کے کئی تعلیمی اداروں، سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے بھی کرسمس کے حوالے سے تقریبات منعقد کر کے مسیحی برادری کی خوشیوں میں شمولیت کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ملک کے تمام بڑے ہوٹلوں میں سانتا کلاز کے مجسمے اور کرسمس ٹری بھی رکھے گئے ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان میں جاری دہشت گردی کی وارداتوں میں حالیہ کمی کے بعد غالباﹰ پہلی مرتبہ کرسمس کا تہوار بغیر کسی خوف کے منایا جا رہا ہے۔ ثمینہ نامی ایک مسیحی خاتون نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی کی وجہ سے کرسمس کی تقریبات کو بہت محدود کر دیا گیا تھا لیکن اب پھر پرانی روایات بحال ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک اور مسیحی خاتون ارشاد بی بی کا کہنا تھا کہ کرسمس کا تہوار امن، سلامتی، محبت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آتا ہے اور یہی وہ اقدار ہیں جن کی پاکستان میں اس وقت اشد ضرورت ہے۔

امن و امان کی کچھ بہتر صورتحال کے باوجود ملک بھر میں کرسمس کے موقع پر خصوصی حفاظتی انتظامات کیےگئے ہیں۔ صرف لاہور میں ہی 433 گرجا گھروں کی حفاظت کے لیے ڈھائی ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ حساس علاقے قرار دیے جانے والے 38 گرجا گھروں کی حفاظت کے لیے پولیس کمانڈوز ڈیوٹی پر ہیں۔

پنجاب حکومت نے کرسمس کے موقع پر مسیحی ملازمین کے لیے پیر کے دن ایک روزہ اضافی تعطیل کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ مسیحی قیدیوں کی سزاؤں میں دو دو مہینے کی کمی بھی کی گئی ہے اور مستحق مسیحی افراد کی مالی اعانت کے لیے قائم کردہ فنڈ کی مالیت 5 ملین روپے سے بڑھا کر 20 ملین روپے کر دی گئی ہے۔

ممتاز مسیحی رہنما اور لاہور کے آرچ ڈائیوسیز کے ایڈمنسٹریٹر بشپ سیباسٹیان فرانسس شا نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کرسمس کا تہوار یا عید مولود مسیح سب کے لیے خوشیاں لے کر آتی ہے۔ ان کے بقول کرسمس کا تہوار ایک دوسرے کو تحائف دینے، ایک دوسرے کے لیے اچھے جذبات کا اظہار کرنے اور مختلف عقائد کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کا نام ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کی کمیابی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نے پاکستان میں کرسمس کی خوشیوں کو گہنا سا دیا ہے۔ بجلی نہ ہونے سے پانی نہیں آتا اور گیس نہ ہونے سے کرسمس کے پکوان نہیں پک سکتے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ محرم اور عید کی طرح کرسمس کے موقع پر بھی بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: مقبول ملک

DW.COM