کرسمس  منانے پر انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکیاں | معاشرہ | DW | 22.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کرسمس  منانے پر انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکیاں

بھارت میں  دائیں بازو کی  ہندو تنظیموں نے  ملک میں آباد  مسیحی اقلیتوں کو کرسمس منانے سے خبردار کرتے ہوئے حملوں کی دھمکیاں دی ہیں۔

بھارت میں موجود ڈی ڈبلیو کے صحافی مرلی کرشن کی ایک رپورٹ کے مطابق  اس ہفتے ہندو انتہا پسند تنظیم ویشوا ہندو پریشد سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے راجستھان کے ایک گاوں میں معنقد کرسمس کی تقریب میں ہنگامہ آرائی کی۔ وہاں موجود لوگوں سے مائیکروفون چھیننے کے ساتھ ساتھ کرسمس کے کیلنڈر اور مذہبی کتابیں پھینک دیں۔ تقریب کے منتظمین  پر الزام  عائد کیا کہ وہ کرسمس کی آڑ میں لوگوں کا مذہب تبدیل کر رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے اس تقریب کے منتظم، مسیحی شکتی سمیتی کے سیکرٹیری لکشمن مینا کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ مینا کا کہنا ہے کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اُن سے پوچھ گچھ جاری ہے کہ اس تقریب کے پیچھے کوئی مذموم مقاصد تو نہیں ہیں۔  

بھارتی کثیرالثقافتی سماج کو عدم برداشت کا سامنا

بھارت، جبراﹰ مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں پادری گرفتار

دوسری جانب دائیں بازو کی ایک اور انتہا پسند ہندو جماعت نے علی گڑھ میں قائم مسیحی اسکولوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کرسمس کا تہوار نہ منائیں کیونکہ یہ دوسرے طالب علموں  کو مسیحیت کی جانب مائل کر دے گا۔

اس جماعت کے کارکنوں کے مطابق ہندو اکثریت رکھنے والے اسکولوں میں کرسمس منانا ایک طرح سے ہندو بچوں کا جبری طور پر  مذہب تبدیل کروانے کے مترادف ہے۔

DW.COM