1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کرسمس! لیکن خوشیاں کیسی؟

چار سالہ پاکستانی مسیحی عالیہ اب بھی کبھی کبھار سہم کر کہیں چھپ جانے کی کوشش کرتی ہے۔ اپنے والدین کی ہلاکت کی خبر اس معصوم بچی کی سمجھ سے بالا تر ہے۔

چار سالہ عالیہ کے ناخواندہ مسیحی والدین شمع بی بی اور شہزاد مسیح کو ’توہین مذہب‘ کے جھوٹے الزام کے تحت مشتعل ہجوم کی طرف سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ چار نومبر 2014 ء کو رونما ہونے والے خونریزی کے اس بہیمانہ واقعے کی یاد اب تک عالیہ کے ذہن میں تازہ ہے۔

اپنے والدین کے ساتھ اینٹوں کے ایک بھٹے میں جبری مشقت کر چکنے والی یہ یتیم بچی اپنے بھائی اور بہن کے ساتھ اب اپنے نانا کے ساتھ رہتی ہے۔ عالیہ اس بچی کا حقیقی نام نہیں ہے۔

یہ بچے اب لاہور میں واقع اس فیکٹری سے کافی دور ہیں، جہاں ان کے والدین کو مسلمانوں کے مشتعل ہجوم نے جلا کر ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن اس واقعے کا خوف اب بھی ان بچوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ کرسمس کے موقع پر یہ کچھ زیادہ ہی اداس ہو گئے ہیں۔

’سکیورٹی تو ہے لیکن چین نہیں‘

عالیہ کے نانا نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بچے اپنے والدین کو یاد کر کے اکثر ہی روتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ شمع اور شہزاد کی ہلاکت کو سال بھر ہو چکا ہے لیکن اب بھی وہ خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے ہیں۔

شمع اور شہزاد کی ہلاکت کے بعد پنجاب حکومت نے انتہائی مستعدی دیکھاتے ہوئے فوری ایکشن لیا تھا۔ گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں اور دیگر مسیحیوں کی طرح عالیہ کے گھر والوں کو بھی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ پاکستان بھر میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات بھی کیے گئے۔ تاہم پاکستان کی اقلیتی کمیونٹی میں عدم تحفظ کی کیفیت برقرار ہے۔

شمع اور شہزاد کی ہلاکت کا واقعہ پاکستان میں کچھ اس لیے بھی زیادہ مشہور ہوا کیونکہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انہوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب کے صفحات نذر آتش نہیں کیے تھے۔ یہی وہ الزام تھا، جس کے تصدیق کیے بغیر ہی ایک ہجوم نے ان دونوں کو پہلے مارا پیٹا، ہلاک کیا اور ان کی لاشوں کو اینٹوں کی اسی بھٹی میں جھونک دیا، جہاں وہ گزشتہ بیس برس سے کام کر رہے تھے۔

Pakistan Ostern Polizist

کرسمس کے موقع پر پاکستان میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

حقیقی تبدیلی کب آئے گی؟

شمع اور شہزاد کے ساتھ اسی بھٹی میں کام کرنے والے رشید محمود نے اے ایف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’وہ دونوں ہماری طرح مزدور ہی تھے۔ وہ ہمارے بہن بھائیوں کی طرح تھے۔ جو کچھ بھی ان کے ساتھ ہوا، وہ ناجائز تھا۔‘‘ شہزاد کے بڑے بھائی اقبال کے مطابق اسے پولیس کا تحفظ حاصل ہے لیکن وہ پھر بھی خوف میں مبتلا ہے۔

اس مسیحی گھرانے کے وکیل ریاض انجم نے امید ظاہر کی ہے کہ اس مخصوص کیس کے حوالے سے عدالت سے انصاف مل جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی صرف اسی صورت میں آئے گی جب قانون میں تبدیلی ہو گی۔

یہ امر اہم ہے کہ انسانی حقوق اور متعدد مغربی ممالک کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں رائج توہین مذہب اور رسالت کے قوانین میں اصلاحات ضرروی ہیں کیونکہ اس کی موجودہ شکل میں آسان ہے کہ لوگ اس قانون کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اس کا غلط فائدہ اٹھا لیں۔