کرسمس تحائف کی رقم عطیات پر لگانے کا فیصلہ | مہاجرین کا بحران | DW | 27.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کرسمس تحائف کی رقم عطیات پر لگانے کا فیصلہ

جرمنی میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق اس سال جرمن شہری کرسمس کے تحائف پر خرچہ کم کر کے لاکھوں کی تعداد میں جرمنی آنے والے مہاجرین کے مدد کرنے والے اداروں کو دل کھول کر چندہ دیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صارفین کے رجحانات پر تحقیق کرنے والے ایک جرمن ادارے، جی ایف کے نے اپنے ایک حالیہ جائزے میں بتایا ہے کہ رواں برس جرمن شہری کرسمس کے تحائف پر اوسطاﹰ 274 یورو خرچ کریں گے۔ یہ رقم 2014ء کے مقابلے میں گیارہ یورو یا چار فیصد کم ہے۔

جی ایف کے سے منسلک تجزیہ کار وولف گانگ آڈل وارتھ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کی گئی ایک گفتگو میں بتایا کہ اس برس کرسمس کے دوران 14.3 بلین یورو کی تجارت متوقع ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ فیصد کم ہے۔ آڈل ورتھ نے یہ بھی بتایا کہ اس برس سب سے زیادہ تحائف نقد رقم کی صورت میں دیے جائیں گے۔ نقدی کے طور پر دیے جانے والے تحائف کی رقم کا مجموعی تخمینہ 3.5 بلین یورو رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب جرمن شہریوں کی جانب سے عطیات دینے کے رجحان میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس سال کے پہلے نو ماہ کے دوران جرمنوں کی جانب سے عطیات کی مد میں دی گئی رقم میں چودہ فیصد کے قریب اضافہ ہوا ہے۔

آڈل وارتھ کا کہنا ہے، ’’موسم بہار کے دوران نیپال میں آنے والے زلزلے کے بعد جرمنوں نے عطیات دیے۔ لیکن چندے کی مد میں دی گئی رقوم میں اضافے کے ایک واضح وجہ ستمبر کے بعد سے لاکھوں کی تعداد میں آنے والے تارکین وطن بنے۔‘‘ اس سال جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دس لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے جو دیگر یورپی ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

رقم بطور عطیہ دینے کا سب سے زیادہ رجحان ان جرمن شہریوں میں دیکھا جا رہا ہے جن کی عمریں تیس برس کے لگ بھگ ہیں۔ اس عمر کے افراد کرسمس کے تحائف پر اوسطاﹰ چوبیس یورو کم خرچ کریں گے لیکن اس برس عطیات کی مد میں اس عمر کا ہر فرد اوسطاﹰ تریسٹھ یورو دےگا۔

جی ایف کے کی جانب سے کیا گیا یہ سروے فرانس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے پہلے کیا گیا تھا، جن میں 130 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ کرسمس کے دن قریب آنے کے باوجود تحائف پر کم خرچنے اور عطیات میں اضافے کا یہ رجحان سال کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

DW.COM