1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرزئی کے پانچ سال بدعنوانی کے خاتمے کے لئےوقف

عالمی برادری کے شدید دباو کے بعد، افغان حکومت نے ملک میں بدعنوانی کے انسداد کے لئے ایک نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

default

یہ اعلان، صدر حامد کرزئی کی جانب سے دوسری مدت کے لئے باضابطہ طور پر صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے محض تین دن قبل کیا گیا ہے۔ پیر کے روز افغان وزیر داخلہ محمد حنیف نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ صدر کرزئی نے اپنے اگلے پانچ سال، ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے وقف کردئے ہیں۔

افغان وزیرداخلہ محمد حنیف نے پرعزم انداز میں کہا کہ کرپشن اور رشوت ستانی میں ملوث پایا جانا والا سرکاری اہلکار چاہے فوجی ہو یا غیر فوجی، اسے فی الفور برطرف کرکے دستور کے مطابق سزا دی جائے گی۔ افغان حکام اس امید کا اظہار کررہے ہیں کہ بین الاقوامی معاونت سے تیار کردہ انسداد بدعنوانی کا نئا مسودہ قانون، جرائم کی روک تھام سے متعلق انہیں مزید اختیارات فراہم کرے گا۔

Hillary Clinton Aussenminister Nato Treffen Brüssel

امریکہ دو ٹوک الفاظ میں مزید امداد کو بدعنوانی کے خاتمے سے مشروط کرچکا ہے۔

بدعنوانی کے خاتمے سے متعلق نئے ادارے میں کام کرنے والے افسران کی تربیت کا ذمہ یورپی یونین کے پولیس مشن نے اٹھایا ہے۔ امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ FBI اور برطانوی تحقیقاتی ادارہ اسکاٹ لینڈ یارڈ بھی اس سلسلے میں افغان حکومت سے تعاون کریں گے۔

شورش زدہ ملک افغانستان میں بدعنوانی عام ہوچکی ہے، سڑک پر کھلے عام رشوت لیتے سپاہی سے لے کر وزارتی سطح پر امدادی رقوم کی خردبرد اور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق مختلف رپورٹس اکثر وبیشتر منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ پولیس اور عدالتی نظام میں بالخصوس رشوت ستانی کی شکایات عام ہیں۔ دوسری طرف افغان وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور عدالتی نظام اب بذات خود ایک مسئلہ نہیں رہیں گے بلکہ مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کریں گے۔

حامد کرزئی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے اسی مسئلہ کے حل کے لئے پر زور مطالبے کئے جارہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن دوٹوک الفاظ میں کہہ چکی ہیں کہ مستقبل میں افغانستان کے لئے مالی امداد کا براہ راست تعلق، بدعنوانی کے مسئلہ کے حل کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے ہوگا۔ امریکی وزیرخارجہ نے افغان حکومت پر زوردیا ہے کہ گزشتہ آٹھ سال کے دوران ملنے والی عالمی مالی امداد میں غبن کرنے والوں کو سزا دی جائے تاکہ اس سے عبرت حاصل کی جاسکے۔

Beerdigungsprozession in Kabul

حکام کے مطابق پولیس کا ادارہ اب بدعنوانی کا سبب نہیں بلکہ اس سے خاتمے میں کردار ادا کرے گا۔

دوسری طرف افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے وزیر خزانہ حضرت عمر اس سلسلے میں مغربی ممالک کو برابر کا ذمہ دار ٹہراتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ مغربی امدادی اداروں کی جانب سے بدنظمی سے تقسیم کی گئی اربوں ڈالر کی امداد نے افغانستان میں بدعنوانی اور رشوت ستانی عام کرکے جنگ زدہ ملک کی معیشت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔

کابل میں امریکی اور برطانوی سفیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیرداخلہ محمد حنیف کا کہنا تھا کہ انسداد بدعنوانی کے نئے ادارے کے قیام کا اعلان مغربی دباو کے نتیجے میں نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ حامد کرزئی دوسری مددت صدارت کے لئے جمعرات کو حلف اٹھائیں گے۔ کرزئی ایسے وقت میں ملک کی بھاگ ڈور سنبھالیں گے جب طالبان عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ دوسری جانب امریکی اور دیگر مغربی طاقتیں بھی، آٹھ سالہ جنگ کے بعد بھی تاحال حل طلب اس مسئلہ کے حل لئے دیگر طریقوں پر غور کررہے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM