1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرزئی کے نامزد کردہ 10 وزراء کے نام مسترد

افغان صدر حامد کرزئی کو نئی کابینہ کی تشکیل میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ اسی ماہ لندن میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت سے قبل وہ حکومت تشکیل دینا چاہتے ہیں۔

default

افغان ارکان پارلیمان نے صدر حامد کرزئی کی نامزد کردہ کابینہ کے بیشتر وزراء کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا ہے۔ ہفتے کو پارلیمان میں سترہ نامزد وزراء کے لئے رائے شماری کی گئی جس میں سے دس کو مسترد کردیا گیا جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ حامد کرزئی نے صحت عامہ کی وزارت کے لئے پلوشہ کاکڑ جبکہ امور خواتین کے لئے ثريا دليل کو نامزد کیا تھا۔

افغان قانون سازوں نے وزارت خارجہ کے قلمدان کے لئے صدر کرزئی کے سابق مشیر زلمے رسول سمیت سات دیگر وزارتوں کے لئے نامزد گیوں کی توثیق کردی ہے۔ اس سے قبل پہلے مرحلے میں وزارت دفاع، خزانہ اور داخلہ کے لئے نامزد گیوں کی توثیق کی گئی تھی۔

Afghanistan Wahlvorbereitungen Hamid Karsai

گزشتہ سال متنازعہ انتخابات میں فتح کے بعد بھی صدر کرزئی کی مشکلات میں کمی نہیں ہوئی

افغان پارلیمنٹ نے کابینہ کی منظوری کے لئے سرمائی تعطیلات منسوخ کررکھی ہیں۔ واضح رہے کہ موجودہ افغان ارکان پارلیمان کی مدت پانچ ماہ بعد ختم ہورہی ہے۔

ہفتے کو رائے شماری کے دوران زلمے رسول کو بطور وزیر خارجہ، حبیب اللہ غالب کو بطور وزیر انصاف، ڈاکٹر محمد یوسف نیازی کو بطور وزیر حج و اوقاف، عبدالہادی ارغندیوال کو بطور وزیر اقتصادیات، آمنہ افضلی کو بطور وزیر خدمات و سماجی امور، ضرار احمد مقبل کو بطور وزیر انسداد منشیات اور جار اللہ منصوری کو بطور وزیر بہبود دیہی آبادی، اعتماد کا ووٹ دیا گیا۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM