1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرزئی کے بھائی کا قتل: ’ذمہ دار طالبان نہیں تھے‘

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق افغانستان میں تین ماہ قبل صدر حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی ولی کرزئی کا قتل طالبان عسکریت پسندوں کی کارروائی نہیں تھا۔

default

کابل سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جولائی کے مہینے میں صدر کرزئی کے بہت با اثر سوتیلے بھائی احمد ولی کرزئی کو جس شخص نے قتل کیا تھا، اس نے ایسا ذاتی وجوہات کی بنا پر کیا اور وہ طالبان باغیوں کا کوئی حامی یا جنگجو نہیں تھا۔

مغربی دفاعی اتحاد کے اس اہلکار کے بقول احمد ولی کرزئی کے جس ملازم نے افغان صدر کے بھائی کو قندھار میں انہی کے گھر میں گولی مار دی تھی، اس کے اس جرم سے متعلق تفتیش نے ثابت کر دیا ہے کہ ملزم کو یہ خبر ہو گئی تھی کہ ولی کرزئی اپنے اس ملازم کی اس کے غلط رویے کی وجہ سے بھرپور سرزنش کرنے والے تھے۔ اس پر اس ملزم نے دوسرے لوگوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لیے ولی کرزئی کو قتل کر دیا تھا۔

اس قتل کی طالبان نے فوری طور پر ذمہ داری قبول کر لی تھی، جسے انہوں نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران اپنی کارروائیوں میں کئی سرکردہ افغان شخصیات کے قتل کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا تھا۔ اس پر افغانستان میں یہ احساس بھی کچھ تقویت پکڑ گیا تھا کہ ہندوکش کی اس ریاست میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود طالبان کم از کم جنوبی افغانستان میں زور پکڑتے جا رہے تھے۔

Afghanistan Präsident Kamid Karsai bei Beerdigung vom Bruder Wali Karsai in Kandahar

حامد کرزئی اپنے بھائی کے لیے دعا مانگتے ہوئے

ان تاثرات کی نفی کرتے ہوئے نیٹو کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کابل میں ایک بریفنگ کے دوران مغربی دفاعی اتحاد کی طرف سے ایسے اعداد و شمار بھی پیش کیے، جن میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے خونریز حملوں میں گزشتہ کچھ عرصے میں واضح کمی ہوئی ہے۔ اس موقع پر صدر کرزئی کے بھائی کی ہلاکت کے بارے میں اس اہلکار نے کہا کہ احمد ولی کرزئی کی ہلاکت سیاسی قتل کا کوئی بڑا واقعہ نہیں بلکہ محض ایک شخص کا مجرمانہ فعل تھا۔

نیٹو کے اس اہلکار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ولی کرزئی کو قتل کرنے والا ملزم قندھار میں چیک پوسٹوں کی نگرانی کرنے والی حفاظتی فورس کا ایک ایسا کمانڈر تھا، جس کے بارے میں مقتول کو یہ شکایت مل چکی تھی کہ وہ مبینہ طور پر اپنی عملداری والے علاقے میں عام لوگوں سے بدسلوکی کا مرتکب ہوتا تھا۔

اس بریفنگ میں نیٹو اہلکار کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ سال رواں کے پہلے نو مہینوں کے دوران افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے دیسی ساخت کے بموں کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں سن 2010 کے پہلے نو ماہ کے مقابلے میں چھ فیصد کا اضافہ تو ریکارڈ کیا گیا مگر اسی عرصے کے دوران طالبان کے مسلح حملوں میں ان کی مجموعی تعداد کے حوالے سے قریب آٹھ فیصد کی کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ: مقبول ملک / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM