1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرزئی کا دورہ ء مرجا، عمائدین سے ملاقات

افغان صدر حامد کرزئی آج اتوار کے روز اچانک دورے پر طالبان کے سابق گڑھ سمجھے جانے والے علاقے مرجاہ پہنچے جہاں انہوں نے مقامی عمائدین سے ملاقات کی۔

default

۔ مرجاہ کو نیٹو اور افغان افواج کی سال دوہزار ایک کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کے ذریعے طالبان کے قبضے سے حاصل کیا گیا ہے۔ 13 فروری کو شروع کی جانے والی اس کارروائی میں امریکہ، نیٹو اور افغان افواج کے 15 ہزار سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اس موقع پر فوجی آپریشن کی وجہ سے علاقے سے نقل مکانی کرجانے والے رہائشیوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مرجاہ میں قبائلی عمائدین کے ایک تین سو رکنی وفد سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے عمائدین سے اپنی حکومت کے لئے حمایت کی اپیل کی۔

Afghanistan / Helmand / Flüchtlinge

افغان صدر نے مرجا سے نقل مکانی کرنے والوں کو واپس آنے کا کہا ہے

وفد سے خطاب کرتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا کہ ان کی حکومت طالبان کے تسلط سے آزاد کرائے گئے اس علاقے میں سیکیورٹی اور تعمیر نو کے اپنے وعدے پورے کرے گی۔ اس حوالے سے حامد کرزئی نے عمائدین سے سوال کیا کہ کیا وہ ان کے ساتھ ہیں یا ان کے خلاف؟ جس پر حاضرین نے نعرے لگائے کہ وہ صدر کرزئی کے ساتھ ہیں اور ان کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

Gulbuddin Hekmatyar

افغان حکام کے مطابق بغلان صوبے مٰیں گلبدین کے حامیوں نے حکومتی حمایت کا اعلان کیا ہے

مرجاہ اور ناد علی میں نیٹو افواج کی حالیہ کارروائی کو امریکی صدر باراک اوباما کی نئی افغان پالیسی کی کامیابی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جارہا تھا۔ کیونکہ افغانستان میں مزید امریکی افواج بھیجنے کے اعلان کے بعد شروع کیا جانے والا یہ پہلا بڑا فوجی آپریشن تھا۔ آپریشن مشترک 25 فرروی کو مرجاہ میں افغان پرچم لہرانے کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔

مرجاہ کے دورے کے دوران افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے امریکی کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل بھی صدر حامد کرزئی کے ہمراہ تھے۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر کوئی بیان نہیں دیا۔

دوسری طرف افغانستان کے شمالی علاقے میں دو متحارب عسکری گروہوں کے مابین جھڑپوں میں 60 جنگجوؤں جبکہ 19 سویلین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ افغان حکام کے مطابق یہ جھڑپیں سابق مجاہد کمانڈر گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی اور طالبان کے مابین ہوئی۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سابق وزیر اعظم حکمت یار کی حزب اسلامی کے جنگجو حکومت کی حمایت کا اعلان کرنے پر تیار ہوئے تھے جس کی طالبان نے مخالفت کی۔ بغلان کے گورنر امیر گل کے مطابق جنگل باغ کے علاقے میں جھڑپیں اتوار کے روز بھی جاری ہیں۔.

حکومتی ذرائع کے مطابق افغان فوج کے دستے قیام امن کے لئے اس دور دراز علاقے کی جانب روانہ کردئے گئے ہیں۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM