1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرزئی چین میں، تلقات کے نئے دور کا اعادہ

افغان صدر حامد کرزئی چین کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے چینی صدر ہوجن تاؤ سے ملاقات کی، دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔

default

بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات میں چین نے افغانستان کی تعمیر نو میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان  کن گینگ نے صحافیوں کو بتایا کہ بیجنگ حکومت افغانستان میں تعمیر نو کے مسائل سے آگاہ ہے اور وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی اس ضمن میں اپنی بساط کے مطابق کابل حکومت کی مدد کرے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ چین اپنے ہمسایہ ملک افغانستان  کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اوروہاں امن اور استحکام کا خواہاں ہے ۔ حامد کرزئی کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان معیشت اور تجارت سے متعلق کئی معاہدوں پر دستخط کئے جا یئں گے۔ افغانستان کے دفاع اور تجارت کے وزراء کے علاوہ بیس کے قریب ماہرین اقتصادیات و تجارت بھی دورے کے دوران صدر کرزئی کے ہمراہ ہیں۔

چین 2002 کے بعد اب تک افغانستان کو وہاں سکولوں،ہسپتالوں، سڑکوں کی تعمیر اور پانی کے منصوبوں کے لیے 250ملین ڈالر کی غیر مشروط امداد دے چکا ہے۔

China Afghanistan Kupfer Mine

چینی کمپنی کے عہدیدار افغانستان میں تانبے کی کان کے دورے کے موقع پر

چائنیز ایسوسی ایشن فار مڈل ایسٹ سے تعلق رکھنے والے ماہر زانگ زیاڈونگ کا کہنا ہے کہ چین افغانستان کی مدد جاری رکھے گا لیکن وہاں کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کرے گا۔

 کابل میں  افغان سیاسی امور کے ماہر سیہون کاخیال ہے کہ حامد کرزئی کے اس دورے سے تجارت اور اقتصادیات سمیت کئی اہم شعبوں میں چین کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے امکانات روشن ہیں۔ ان کے بقول، : " حامد کرزئی کے دورے کا مقصد صنعت، تجارت، زراعت، توانائی،اور مواصلات کے شعبوں میں چین کے تجربات سےاستفادہ کرنا ہے ۔ دونوں ممالک کی جغرافیائی حیثیت کے تناظر میں دیکھیں توخطے کی سیکیورٹی کی صورتحال کےحوالے سے بھی یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے"۔   

حامد کرزئی اپنے دورے کے دوران چین کے صدر ہوجن تاؤ سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم وین جیا باؤ سے بھی ملیں گے اور ان سے  خطے کی صورتحال اور کئی دیگر موضوعات پر بات کرنے کے علاوہ انہیں افغانستان میں طالبان کے ساتھ مفاہمت کے لئے جاری مذاکرات کے عمل سے بھی اگاہ کر یں گے۔

Afghanistan Polizei Zeremonie Kabul Polizeikräfte Ausbildung

امکان ہے کہ افغان پولیس اور فوج کی تربیت کے معاملے پر بھی چین سے بات کی جائے

افغانستان اور چین کے درمیان 1955  سے سفارتی تعلقات قائم ہیں اور افغانستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے سب سے پہلے  وہاں کی نیشنلسٹ حکومت کی بجائے کمیونسٹ حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ چین نے 1996 سے2001  تک افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔  افغانستان کو امید ہے کہ چین پاکستان سے کہے گا کہ وہ عسکریت پسندی کے خاتمے اور قیام امن کے سلسلے میں کابل حکومت کی مدد کرے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان کی تعمیر نو کے لئے اقتصادی امداد  اورمعدنی وسائل کو بروئے کارلانے اور وہاں سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کرنے پر چین کے صدر کا شکریہ ادا کیا۔

رپورٹ بخت زمان

ادارت کشور مصطفیٰ

DW.COM