1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرزئی نے طالبان سے مذاکرات کے لئے کمیٹی قائم کر دی

افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان سے امن مذاکرات کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کرزئی کی جانب سے اعلان کردہ کمیٹی کو ’ہائی پیس کمیٹی’ کا نام دیا گیا ہے۔

default

صدارتی دفتر سے جاری اعلامئے میں اس کمیٹی کو امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔ رواں برس جون میں قبائلی رہنما بھی عسکریت پسندوں کو مصالحتی عمل میں شامل کرنے کی توثیق کر چکے ہیں۔

Taliban in Afghanistan

طالبان متعدد مرتبہ امن مذاکرات کی پیشکش مسترد کر چکے ہیں

افغانستان میں 2001ء میں ہونے والے امریکی حملے کے بعد طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور وہ تب سے ہی امریکی حمایت سے قائم کابل حکومت کو گرانے اور افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کو نکالنے کے لئے پرتشدد کارروائیوں میں لگے ہیں۔

تقریباﹰ ایک دہائی سے چلی آ رہی افغان جنگ کے تناظر میں بین الاقوامی برادری بھی طالبان کے ساتھ بات چیت کے حق میں دکھائی دیتی ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آئندہ برس سے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء شروع ہو جائے گا۔

NATO in Afghanistan

صدر اوباما اگلے برس سے افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کا آغاز چاہتے ہیں

بتایا جاتا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے قائم کردہ کمیٹی میں افغانستان کے تمام مکاتب فکر کو نمائندگی حاصل ہو گی۔ اس حوالے سے ارکان کی فہرست کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔ اس کونسل میں تشدد کا راستہ ترک کرنے والے سابق طالبان اور خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ادھر طالبان رہنما افغان حکومت کی طرف سے کی جانے والی امن کوششوں کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی تک امن مذاکرات ممکن نہیں۔

دوسری جانب گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں طالبان کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ منگل کو پانچ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اس سال افغانستان میں اب تک 485 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ وہاں تقریباﹰ ڈیڑھ لاکھ اتحادی فوجی تعینات ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس