1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرزئی دور میں جنگ میں فتح ناممکن، افغان رائٹس مانیٹر

افغانستان میں انسانی حقوق کے نگران ایک آزاد بین الاقوامی ادارے نےاپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ صدرحامدکرزئی کی کمزور حکومت کی موجودگی میں افغان جنگ میں فتح ایک معجزہ ہی ہو گا۔

default

افغانستان میں ایک ٹینک کے قریب کھڑا ایک غیر ملکی فوجی

افغان رائٹس مانیٹر نامی اس ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی فوجوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود حامد کرزئی کی ’’نااہل حکومت‘‘ انتہاپسند طالبان کے خلاف جنگ میں فتح کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس دستاویز میں اتحادی فوجوں کی نفری میں اضافے کے باوجود بڑھتے ہوئے خونریز واقعات کو خصوصیت سے رپورٹ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2001 سے جاری اس جنگ میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی یومیہ اوسط تعداد 14 بنتی ہے۔

’مانیٹر‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر اوباما نے افغانستان میں امریکی

US Bomber

افغانستان میں استعمال ہونے والا ایک امریکی بی باون بمبار طیارہ

فوجوں میں اضافے کے حوالے سے کہا تھا کہ جنگجوؤں کو پوری طرح شکست دیتے ہوئے ان کے نیٹ ورک تہس نہس کردئے جائیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا اور اب یہ مزاحمت کار مزید فعال اور مربوط ہو کر مقامی شہری آبادی اور غیر ملکی دستوں کے خلاف مزید ہلاکت خیز کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ رپورٹ میں افغان جنگ میں آئندہ کسی بھی قسم کی بڑی کامیابی کو ’معجزاتی پیش رفت‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

افغان رائٹس مانیٹر کی رپورٹ میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کل ہلاکتوں کے تخمینے میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک وہاں 661

Hamid Karzai mit US Flagge und Afghanistan Flagge

افغان صدر کرزئی ایک پریس کانفرنس میں، فائل فوٹو

افراد طالبان کا نشانہ بنے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر مسلح افراد کی سلامتی کی ضمانت افغانستان کی موجودہ صورت حال میں دینا انتہائی مشکل ہے۔ غیر ملکی فوجیوں کی کارروائیوں میں ایک طرف جہاں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں وہیں حامد کرزئی کے وفادار قبائل، پولیس، فوج اور نیم سرکاری ملیشیا بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔

افغان رائٹس مانیٹر ARM کی اس حیران کن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لئے بنیادی ڈھانچہ موجود ہی نہیں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں کوئی اہل اور جائز قیادت بھی موجود نہیں ہے۔ اسی لئے انتشار عام ہونے کی وجہ سے افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ ARM کی اس دستاویز کے مطابق رواں سال کی پہلی ششمالی میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1074 رہی۔ گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں یہ تعداد تھوڑی سے زیادہ ہے۔

افغانستان متعینہ بین الاقوامی حفاظتی فوج آئی سیف کے ترجمان جنرل جوزف بلوٹز نے ابھی حال ہی میں کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی مزاحمت میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ غیر ملکی افواج ’’عسکریت پسندوں کی تمام قوت کو نچوڑ کر ختم کرنے کے عمل‘‘ سے گزر رہی ہیں۔ جنرل جوزف بلوٹز نے افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کے خاتمے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے نیٹو فورسز کی کارروائیوں کو قابل تعریف قرار دیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM