1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرد علیحدگی پسندوں کے شہر میں ترک عسکری کارروائیاں بند

ترک فوج نے کرد اکثریتی شہر Sur میں علیحدگی پسندوں کے خلاف عسکری کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تشویش ظاہر کی جا رہی تھی کہ فوج اور جنگجوؤں کی ان جھڑپوں میں عام شہریوں کو بھاری جانی نقصان کا سامنا ہے۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اس علاقے میں ترک فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان کئی ماہ سے جاری جھڑپوں اور حملوں میں ایک طرف تو عام شہری ہلاکتوں میں اضافے کے خطرات ہیں اور ساتھ ہی وہاں موجود قدیم ثقافتی ورثے کی تباہی کے خدشات بھی موجود ہیں۔

ترک وزیرداخلہ ایفکان الا نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کردستان ورکرز پارٹی کے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ سکیورٹی فورسز SUR شہر میں ممکنہ دھماکا خیز مواد کی تلاش اور دیگر قریبی علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔ ترک فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سُر شہر میں کی گئی عسکری کارروائیوں میں مجموعی طور پر 271 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

Türkei Diyarbakir

عسکری آپریشن کی وجہ سے عام شہری زندگی شدید متاثر ہوئی ہے

ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں متعدد مقامات پر گزشتہ برس اگست سے 24 گھنٹے کرفیو کا نفاذ رہا ہے، جس کا مقصد کرد ورکرز پارٹی کے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن میں سکیورٹی فورسز کو سہولت مہیا کرنا بتایا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس عسکری کارروائی کے ذریعے عسکریت پسندوں کی آماج گاہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، خندقیں اور باردوی مواد تباہ کرنے اور مقامی علاقوں کو تحفظ فراہم کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔

تاہم دوسری جانب کرد اکثریتی علاقوں میں ان عسکری کارروائیوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات بڑھے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کرفیو کے حامل علاقوں میں کم از کم 224 افراد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

شامی سرحد کے قریب واقع کرد اکثریتی علاقے ایدل میں جاری عسکری آپریشن بھی گزشتہ روز مکمل کر لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں دیگر دو مقامات پر فوجی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ ترکی، امریکا اور یورپی یونین کرد ورکرز پارٹی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ برس جولائی میں ترکی نے اس تنظیم کے ساتھ امن عمل ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی اس تنظیم سے وابستہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔