1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرد ریفرنڈم منسوخ کر دیں، ترک صدر

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مطالبہ کیا ہے کہ عراقی کرد آزادی سے متعلق مجوزہ ریفرنڈم کو منسوخ کر دیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ تاہم اسرائیل آزاد کرد ریاست کے حق میں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر عراقی کرد آزادی سے متعلق اپنے مجوزہ ریفرنڈم کو انعقاد کراتے ہیں تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

کُرد: چار ملکوں میں موجود بے ریاست لوگ

عراقی کردوں نے عرب علاقے تباہ کر دیے، ہیومن رائٹس واچ

ترکی میں کُرد نواز اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری

ایردوآن نے مطالبہ کیا ہے کہ عراق کے اس نیم خودمختار علاقے میں ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ اقوام متحدہ کی سالانہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا کہ عراقی کردوں کی طرف سے آزادی حاصل کرنے کے مطالبات نئے تنازعات اور بحرانوں کو جنم دیں گے، اس لیے علاقائی سطح پر نئی کشیدگی پیدا ہونے سے بچا جانا چاہیے۔

ایردوآن نے مزید کہا کہ عراقی کرد علاقائی حکومت کو ریفرنڈم کا خیال ترک کر دینا چاہیے۔ عراق کے اس نیم خودمختار علاقے نے عراق سے آزادی کی خاطر پچیس ستمبر کو ایک ریفرنڈم کرانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس پر نہ صرف ترکی بلکہ بغداد حکومت، ایران اور امریکا بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس ریفرنڈم کے مثبت نتیجے کی صورت میں کرد قوم کو فوری طور پر آزادی حاصل نہیں ہو گی بلکہ اُسے بغداد حکومت کے ساتھ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا مذاکراتی عمل شروع کرنا ہو گا، جو کئی برسوں پر محیط ہو سکتا ہے۔

تاہم ترک صدر ایردوآن نے واضح کیا ہے کہ اگر عراقی کردوں نے ریفرنڈم کرایا تو وہ ترکی سے ملنے والی مراعات سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ شام میں فعال کرد علیحدگی پسندوں سے انقرہ کے بھی تنازعات چل رہے ہیں۔

ترکی خبردار کر چکا ہے کہ شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں اگر وہاں کوئی آزاد ریاست بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس صورتحال میں ترکی نے عراق سے متصل اپنی سرحد پر فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں، جن میں سو فوجی گاڑیاں بھی شریک ہیں۔

دوسری طرف علاقائی سطح پر صرف اسرائیل ہی ایک ایسا ملک ہے، جو عراقی کردوں کی آزاد ریاست کی حمایت کرتا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ یوں اسرائیل اور کردوں کے مابین اچھے تعلقات قائم ہو سکیں گے اور ایسے امکانات پیدا ہو جائیں گے کہ یہ دونوں مل کر ایران کے اثر و رسوخ اور انتہا پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کر سکیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کردوں کی ایک آزاد ریاست کے قیام کو قابل قبول قرار دے چکے ہیں۔

DW.COM